کراچی: بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے پہلے ہی پریشان عوام پر ایک اور مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے، نیپرا کے زیرِ غور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملک بھر میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مسلسل تین ماہ تک اضافے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ مجوزہ اضافے کی منظوری کی صورت میں صارفین کو آئندہ ماہ سے بجلی کے بلوں میں مزید رقم ادا کرنا پڑسکتی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 34 پیسے تک ماہانہ اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ اضافے کا اطلاق مسلسل تین ماہ تک کیا جاسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین کو پہلے سے بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات کے ساتھ بلوں کی مد میں مزید مالی دباؤ برداشت کرنا پڑے گا۔
نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر سماعت مکمل کرلی ہے، جس کے بعد اتھارٹی نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ نیپرا اب تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار، اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ منظور کرلی گئی تو اس کا مجموعی مالی اثر تقریباً 34 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، جس کا بوجھ مختلف کیٹیگریز کے بجلی صارفین پر منتقل ہونے کا امکان ہے۔
بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا، تاہم حتمی رقم، اطلاق کی مدت اور صارفین پر پڑنے والے اصل مالی اثر کا تعین نیپرا کے حتمی فیصلے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
نیپرا کی جانب سے باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد واضح ہوگا کہ بجلی صارفین کو فی یونٹ کتنے اضافی پیسے ادا کرنا ہوں گے اور یہ اضافہ کن ماہ کے بلوں میں شامل کیا جائے گا۔