کوئٹہ: بلوچستان میں امن، نوجوانوں کے مستقبل اور حکومتی اصلاحات سے متعلق پالیسی پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کو تشدد اور علیحدگی پسند سوچ کے بجائے تعلیم، میرٹ اور ترقی کے مواقع کی طرف لانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نوجوانوں کو سن رہی ہے اور پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
21ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض عناصر پاکستان کو کیک کی طرح تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے جس سے نہ نوجوانوں کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ بلوچستان کے مستقبل کو۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بندوق کے زور پر کسی نظریے کو مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق غیر متوازن ترقی اور پسماندگی کو بلوچستان میں پرتشدد واقعات کا جواز قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ترقی میں عدم توازن کا مسئلہ پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں موجود ہے، تاہم ترقی کے حصول کے لیے کہیں بندوق اٹھانا یا بے گناہ لوگوں کا خون بہانا قابل قبول راستہ نہیں۔
وزیراعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حقائق اور تصورات میں فرق کو سمجھیں اور بلوچستان کی تاریخ کا درست مطالعہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک موجود بعض پاکستان مخالف عناصر منظم پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں، اس لیے نوجوان تعلیم، ترقی اور روشن مستقبل پر توجہ دیں اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست اور نوجوانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو ہر سطح پر سنا جارہا ہے۔ ان کے مطابق میرٹوکریسی کو فروغ دے کر ہی نوجوانوں کو ان کا جائز حق دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیسٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمتوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی حق دار اپنے حق سے محروم نہیں رہے گا اور ملازمت صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دو سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر سو فیصد پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ محکمہ انسداد بدعنوانی کو فعال کرنے کے ساتھ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم نے ترقیاتی منصوبوں کے معائنے کا آغاز ان کے اپنے حلقے سے کیا تاکہ واضح پیغام دیا جاسکے کہ احتساب کا عمل بلاامتیاز ہوگا۔ ان کے مطابق کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جارہی ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو فعال کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں اچھی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ نے ورکشاپ میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔ ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے سوال و جواب کے سیشن میں بلوچستان کے تاریخی حقائق، موجودہ صورتحال، حکومتی اقدامات اور طرز حکمرانی سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ورکشاپ کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں لیپ ٹاپ بھی دیے گئے۔