کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پوری پشتون قوم، بالخصوص نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومیں اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑی رہ کر ہی مضبوط شناخت برقرار رکھ سکتی ہیں، تاہم موجودہ دور میں ترقی کے لیے جدید علم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔
پشتون کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ نوجوان اپنی تاریخ سے روشنی، ثقافت سے شناخت، علم سے طاقت اور مستقبل سے امید حاصل کریں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ انسانی تہذیب کا سفر دراصل انسان کی مسلسل تخلیقی، فکری اور سماجی ترقی کی داستان ہے۔ لفظ کلچر کی جڑیں لاطینی زبان کے لفظ کلتور سے وابستہ ہیں، جس کا بنیادی مفہوم زمین کی کاشت اور زرخیزی سے متعلق ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہی تصور انسانی ذہن، معاشرے اور تہذیب کی تعمیر و نشوونما تک پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ انسان نے اپنی بودوباش، علم، فنون، معیشت اور سماجی اداروں کو مسلسل ترقی دی اور ثقافت سے تہذیب تک کا سفر طے کیا۔ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیا ہے، جس کے باعث عالمی تہذیب کے ارتقا کی رفتار بھی کئی گنا تیز ہوگئی ہے۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اجتماعی یادداشت اور تاریخی تسلسل کی علامت ہوتی ہے۔ پشتون کلچر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنی روایات کی مثبت اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرتے ہوئے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے، جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ پشتون معاشرہ اپنی روایتی پوشاک، ذائقہ دار کھانوں، روایتی رقص، جرگہ، سخاوت، انسان دوستی اور مہمان نوازی جیسی قابلِ قدر روایات کے باعث ایک منفرد ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔
جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ پشتون ثقافت کی خوبصورتی اس کے اجتماعی مزاج، وقار اور باہمی احترام میں بھی پنہاں ہے۔ شملہ پشتون معاشرے میں وقار اور شناخت کی علامت ہے جبکہ شال آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی ترقی اور سماجی پیشرفت اسی وقت مکمل ہوسکتی ہے جب معاشرے کے مرد اور خواتین برابر احترام، مواقع اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ شملہ اور شال دونوں مل کر ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض اپنی ثقافت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علم کے میدان میں بھی آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، یہی ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔