اسلام آباد: پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال میں کشیدگی کے دوران افغانستان کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں بھیجے گئے 8 ڈرونز کو پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام ڈرونز کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ڈٹیکٹ کرلیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے بدھ کی صبح 8 ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود کی طرف بھیجے گئے، جنہیں پاک فوج اور پاک فضائیہ کے فعال اور چوکس ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت شناخت کرکے کارروائی کے ذریعے تباہ کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تباہ کیے گئے ڈرونز میں سے 4 ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں گرائے گئے، جبکہ مزید 4 ڈرونز کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں مار گرائے گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق کوہاٹ کے قریب گرائے گئے ڈرونز میں سے کچھ شہر سے تقریباً سات کلومیٹر دور پہاڑی علاقے میں تباہ کیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر پاک فضائیہ کی نگرانی میں قائم فضائی دفاعی نظام چوبیس گھنٹے فعال اور مکمل طور پر الرٹ رہتا ہے، جس نے ڈرونز کو بروقت ڈٹیکٹ کرکے انہیں اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ ان کا تکنیکی اور فرانزک جائزہ لیا جاسکے۔ دستیاب رپورٹس میں ڈرونز کی نوعیت اور ان کے ممکنہ ہدف کے حوالے سے مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے اس واقعے کو افغانستان کی جانب سے مبینہ فضائی دراندازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بروقت کارروائی کے ذریعے اس کوشش کو ناکام بنایا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں فائرنگ، مبینہ عسکری دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھا ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے آنے والے عسکریت پسندوں اور سرحد پار موجود مبینہ ٹھکانوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق پاک افغان سرحد پر نگرانی مزید سخت رکھی گئی ہے اور کسی بھی ممکنہ فضائی یا زمینی خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام مسلسل الرٹ ہے۔