تازہ ترین

مذاکرات، مفاہمت اور این آر او الگ الگ چیزیں ہیں، طلال چوہدری

0

اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جو کچھ کررہی ہے، اس سے عمران خان کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو بلیک میل کرکے مطالبات منوانا ممکن نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ دارالحکومت میں کنٹینرز رکھے گئے ہیں، تاہم راستے بند نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہر صورت عملدرآمد چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں، جبکہ پی ٹی آئی اندرونی طور پر بھی اختلافات کا شکار ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے ماضی میں بھی احتجاج کے دوران ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس سے حکومت اور انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ پولیس اس کی مرضی کے مطابق کام کرے اور ہر شخص کو اپنی پسند سے تعینات کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح ان کی وزارتِ اعلیٰ برقرار رہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خواہاں نہیں ہیں۔ انہوں نے مذاکرات، مفاہمت اور این آر او کو الگ الگ چیزیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت کا کم سے کم استعمال ہمیشہ حکومت کی پالیسی رہی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت نے دارالحکومت میں سیکیورٹی اور انتظامی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی سیاسی جماعتوں کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں اور دیگر عوامی مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہ ہونے سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اسلام آباد میں قانون و امن کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرے گی، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ دارالحکومت پہنچ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.