تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات، چین میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے

0

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی بڑھتی ہوئی ہیکنگ صلاحیت نے چین میں اس ٹیکنالوجی سے لاحق خطرات پر تشویش بڑھا دی ہے، بیجنگ اب مصنوعی ذہانت کے ممکنہ قومی سلامتی کے خطرات پر بھی زیادہ توجہ دے رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکا میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات پر بحث جاری ہے، جبکہ چین میں اب تک توجہ زیادہ تر فوری نوعیت کے مسائل، جیسے ڈیپ فیک اور بچوں کے تحفظ پر مرکوز رہی ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی خطرناک سائبر صلاحیتوں نے چینی حکام کو ان خطرات کو نئے انداز میں دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔ چین کے جاسوسی ادارے کے سربراہ نے رواں ہفتے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں چینی پیغام رسانی کی ایپ وی چیٹ کے ممکنہ سائبر خطرات بھی سامنے آئے۔ کیلیفورنیا میں پروگرامرز کی ایک چھوٹی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا سائبر حملہ کرنے والا ‘ورم’ تیار کیا گیا ہے جو استعمال کیے جانے کی صورت میں لاکھوں وی چیٹ اکاؤنٹس کو متاثر کرسکتا ہے۔

امریکا میں قائم ٹیکنالوجی ہیج فنڈ انٹرکنیکٹڈ کیپیٹل کے بانی کیون سو کے مطابق چین اور امریکا میں مصنوعی ذہانت کی سلامتی سے متعلق مسائل میں اختلافات سے زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے، تاہم چین میں ایسے معاملات عوامی سطح پر زیر بحث نہیں آتے۔

ان کے مطابق انسانی نگرانی کے بغیر کام کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ بوٹس کے سائبر سکیورٹی پر اثرات چینی حکومت کی بڑی تشویش میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات عالمی سطح پر توجہ حاصل کررہے ہیں اور توقع ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کو درپیش مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے پر بھی بات کریں گے۔

سنگھوا یونیورسٹی کے مرکز برائے بین الاقوامی سلامتی اور حکمت عملی کے سن چینگ ہاؤ کے مطابق دونوں ممالک ان خطرات کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ اور مشترکہ سمجھ بوجھ پیدا کررہے ہیں، جس سے باہمی تعاون کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے حفاظتی جائزوں اور ہنگامی حالات میں خبردار کرنے والے نظام پر تعاون دونوں ممالک کے درمیان شدید تکنیکی مسابقت سے متاثر ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین سے آگے ہے اور وہ یہ برتری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

چین میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو پہلے ہی منظم کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رضامندی کے بغیر اس کی مشابہت پر مبنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اوتار بنانے پر پابندی عائد ہے۔

بیجنگ میں قائم مصنوعی ذہانت کی سلامتی سے متعلق مشاورتی ادارے کے سربراہ برائن تسے کے مطابق چینی پالیسی کا محور معاشرے اور لوگوں کو لاحق حقیقی اور موجودہ نقصانات ہیں۔ ان کے مطابق چین مصنوعی ذہانت کو ایسی عمومی ٹیکنالوجی سمجھتا ہے جو بجلی یا گاڑی کی طرح معاشرے اور صنعت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، تاہم اسے ضابطوں کے ذریعے منظم کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں حالیہ تیز رفتار اضافہ، نمایاں واقعات اور خودکار طریقوں سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی تشویشناک رفتار نے اس ٹیکنالوجی کو چینی ترجیحات میں مزید اہم بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شنگھائی میں عوام نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تشویش کے ساتھ ساتھ عملی رویے کا بھی اظہار کیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی کے مسائل کی نشاندہی، ان کا حل اور خامیوں کو دور کرنا سائبر سکیورٹی کی بہتری میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے سخت ضابطوں کی بھی وسیع حمایت سامنے آئی۔

سنگاپور میں قائم ادارے انسپائرڈ اے آئی کے بانی جیا زی جیان نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پیچیدہ پاس ورڈز توڑنا سیکھ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر اہم پاس ورڈز یا قومی سلامتی سے متعلق خفیہ کوڈز آسانی سے توڑ لیے گئے تو چین اور امریکا دونوں خود کو خطرے میں محسوس کریں گے، کیونکہ اگر ایک ملک کی صلاحیتیں بہت زیادہ مضبوط ہوں اور دوسرے کے پاس مناسب دفاع نہ ہو تو دوسرا ملک کمزور پوزیشن میں ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.