آنکھوں میں چھپی دل کی بیماری؟ ریٹینا کی تبدیلی تشخیص سے 4 سال پہلے خطرہ بتا سکتی ہے
آنکھوں کی پتلی پرت میں ہونے والی بعض معمولی تبدیلیاں مستقبل میں دل کی ایک عام مگر اکثر نظر انداز ہوجانے والی بیماری ایٹریئل فبریلیشن کی نشاندہی کئی سال پہلے کرسکتی ہیں۔
نئی تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ آنکھ کے پردہ بصارت یعنی ریٹینا کی بعض تہوں کا پتلا ہونا ان افراد میں دیکھا جاسکتا ہے جو بعد میں ایٹریئل فبریلیشن کا شکار ہوتے ہیں۔
ایٹریئل فبریلیشن دل کی دھڑکن کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل کے اوپری اور نچلے حصے باقاعدہ ہم آہنگی سے نہیں دھڑکتے جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بے ترتیب، تیز یا پھڑپھڑاہٹ جیسی محسوس ہوسکتی ہے۔
یہ کیفیت بعض افراد میں بالکل واضح علامات پیدا نہیں کرتی، اسی لیے کئی مریضوں میں اس کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب یہ پہلے ہی کسی سنگین طبی پیچیدگی کا سبب بن چکی ہوتی ہے۔
ایٹریئل فبریلیشن فالج اور دل کی کمزوری سمیت متعدد طبی مسائل کے خطرے سے منسلک ہے۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے دو بڑے تحقیقی مطالعات، الز آئی اور برطانیہ بائیوبینک سے حاصل ہونے والے 90 ہزار سے زائد افراد کے آنکھوں کے معائنے کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔
ان میں آنکھ کے پردہ بصارت کی تفصیلی تصاویر اور آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی نامی جدید اسکین شامل تھے جس کے ذریعے ریٹینا کی مختلف تہوں کی موٹائی دیکھی جاسکتی ہے۔
محققین نے پایا کہ ایٹریئل فبریلیشن میں مبتلا افراد میں ریٹینا کی بعض تہیں مسلسل نسبتاً پتلی تھیں۔
خاص طور پر میکیولا گینگلیئن سیل اور اندرونی پلیکسفارم تہہ جسے مختصراً ایم جی سی آئی پی ایل کہا جاتا ہے کی موٹائی میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔
یہ تہہ آنکھ میں موجود اعصابی خلیوں پر مشتمل ہوتی ہے جو بصری معلومات کو آنکھ سے دماغ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ جن افراد کو آنکھوں کی تصاویر لیے جانے کے وقت ایٹریئل فبریلیشن نہیں تھی لیکن بعد میں ان میں یہ بیماری سامنے آئی ان میں بھی ایم جی سی آئی پی ایل تہہ اوسطاً پتلی تھی۔
محققین کے مطابق یہ فرق اس وقت موجود تھا جب ایٹریئل فبریلیشن کی باقاعدہ تشخیص میں تقریباً 4 سال باقی تھے۔
برطانیہ بائیوبینک کے تقریباً 39 ہزار ایسے افراد کے اعداد و شمار میں جنہیں مطالعے کے آغاز پر ایٹریئل فبریلیشن نہیں تھی تقریباً 838 افراد میں بعد میں یہ کیفیت سامنے آئی۔ ان افراد میں ایم جی سی آئی پی ایل کی کم موٹائی ایٹریئل فبریلیشن کے مستقبل کے خطرے سے منسلک تھی۔
محققین نے عمر، جنس، نسلی پس منظر، بلند فشار خون، ذیابیطس، تمباکو نوشی اور الکحل کے استعمال جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔
تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جوزف ہیومر کے مطابق ریٹینا جسم کا ایک منفرد حصہ ہے جہاں خون کی نالیوں اور اعصابی ریشوں کا براہ راست اور غیر جراحی معائنہ ممکن ہے۔
ان کے مطابق ریٹینا کو خون کی فراہمی اور اعصابی خلیوں کی ساخت میں معمولی تبدیلیاں جسم کے دوسرے حصوں میں ہونے والی بیماریوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرسکتی ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ ایٹریئل فبریلیشن سے وابستہ خون کی روانی میں تبدیلیاں یا دماغ اور آنکھ میں خون کی فراہمی متاثر ہونے کے معمولی واقعات ریٹینا کی بعض تہوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایک اور ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ دماغ میں ہونے والا معمولی نقصان بالواسطہ طور پر ریٹینا کے اعصابی خلیوں میں بھی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم ان دونوں ممکنہ طریقہ کار کی مکمل وضاحت ابھی سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج دلچسپ ضرور ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آنکھوں کا اسکین ایٹریئل فبریلیشن کی باقاعدہ تشخیص کا متبادل بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مصنفین کے مطابق اگلا مرحلہ یہ جاننا ہے کہ آیا ریٹینا کی ان تبدیلیوں کو مستقبل میں ایٹریئل فبریلیشن کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور کیا اس بنیاد پر ایسے افراد کی شناخت ممکن ہوگی جنہیں طویل مدتی دل کی نگرانی کی ضرورت ہو۔
اس مقصد کے لیے الیکٹروکارڈیوگرام سمیت دل کی موجودہ تشخیصی تکنیکوں کے ساتھ آنکھوں کے اسکین کو اضافی ذریعہ بنانے پر تحقیق کی جاسکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ چونکہ ریٹینا کے جدید اسکین آنکھوں کے کلینکس اور بصری معائنے کے مراکز میں پہلے ہی استعمال ہوتے ہیں، اس لیے مستقبل میں یہ طریقہ کار ان افراد کی ابتدائی شناخت میں مددگار ہوسکتا ہے جنہیں ابھی ایٹریئل فبریلیشن کی کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔
اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ماہرین نے بھی اس امکان کو دلچسپ قرار دیا ہے تاہم ان کے مطابق آنکھ اور دل کے درمیان اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مطالعات میں یہ جاننا ضروری ہوگا کہ ریٹینا میں ہونے والی کون سی مخصوص حیاتیاتی تبدیلیاں ایٹریئل فبریلیشن سے وابستہ ہیں، یہ تبدیلیاں مختلف آبادیوں میں کتنی قابل اعتماد ہیں اور آیا آنکھوں کی تصاویر مستقبل میں عملی طور پر اس بیماری کی ابتدائی اسکریننگ کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔
تحقیق کے مصنفین بھی اسے ابتدائی مرحلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ آنکھوں کی تفصیلی تصاویر کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں سے متعلق بیماریوں کے ابتدائی آثار تلاش کرنے کا میدان جسے آکیولومکس کہا جاتا ہے مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔
س تحقیق سے فی الحال یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف آنکھوں کا اسکین ایٹریئل فبریلیشن کی تشخیص کرسکتا ہے بلکہ یہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریٹینا میں نظر آنے والی معمولی تبدیلیاں مستقبل میں اس بیماری کے خطرے کی ابتدائی نشاندہی کا ایک اضافی ذریعہ بن سکتی ہیں۔