تازہ ترین

وزن گھٹانے والی ادویات سے ذہنی صحت کے خطرات بڑھنے کا دعویٰ

0

جنوبی کوریا: ایک نئی تحقیق میں وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات رپورٹ ہونے کی شرح زیادہ دیکھی گئی، تاہم اس تعلق کو براہِ راست وجہ ثابت کرنے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔

جنوبی کوریا میں کی گئی تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے 27 ہزار بالغ افراد کے ذہنی صحت سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا، جن میں 846 افراد نے ڈاکٹر کے نسخے پر وزن کم کرنے والی دوا استعمال کرنے کی اطلاع دی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں ادویات استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا امکان 93 فیصد جبکہ خودکشی کے خیالات رپورٹ کرنے کا امکان 168 فیصد زیادہ تھا۔

محققین کے مطابق تقریباً ایک دہائی تک GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد کے جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دوا تجویز کیے جانے کے بعد اگر وزن دوبارہ بڑھا تو ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔

ڈاکٹر کی ینگ سون اور ان کے ساتھی محققین نے کہا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پایا گیا، جبکہ وزن دوبارہ بڑھنے کی صورت میں یہ خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

وزن کم کرنے والی ادویات کے حوالے سے ذہنی صحت اور خودکشی کے خطرات پہلے بھی حفاظتی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو ایسے مریضوں کی جانب سے متعدد رپورٹس موصول ہوئی تھیں جن میں ادویات کے استعمال کے دوران خودکشی کے خیالات یا شدید مایوسی کی شکایات بیان کی گئی تھیں۔

کچھ مریضوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں دوا استعمال کرنے سے قبل ذہنی صحت کے مسائل کی کوئی تاریخ نہیں تھی، تاہم بعد میں ایسے خیالات پیدا ہوئے۔

اہم بات: یہ تحقیق ادویات اور ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتی ہے، اسے یہ ثابت کرنے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ ادویات لازماً ڈپریشن یا خودکشی کے خیالات کا سبب بنتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.