سعودی ولی عہد سے امریکی فوجی سربراہ کی ملاقات، حوثی حملوں پر گفتگو
ریاض: سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حوثیوں نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں فوجی تنصیبات کو درجنوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ گروپ نے ان حملوں کو سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی قرار دیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گروپ نے سعودی عرب میں فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف ایک بڑے پیمانے کی کارروائی کی، جس میں خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ان کے مطابق حملوں میں ایئرکرافٹ ہینگرز، ریڈار سسٹمز، رن ویز، گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور دیگر فوجی مقامات کو ہدف بنایا گیا۔
حوثی حملوں میں اضافے کے باعث سعودی عرب کی سیکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ سعودی اور امریکی حکام کے درمیان رابطے بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔