تازہ ترین

’پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں‘، امریکی ناظم الامور کا پاکستانی اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے انوویشن ہائیو کا افتتاح

0

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ پاکستان میں صلاحیتوں اور کاروباری جدت کی کوئی کمی نہیں، تاہم مواقع ہر شخص تک یکساں طور پر نہیں پہنچتے۔ انوویشن ہائیو کا مقصد پاکستانی کاروباری افراد کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے خیالات کو پائیدار کاروبار، شراکت داری اور مستقبل میں تبدیل کرسکیں۔

نیٹلی بیکر نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان میں قائم امریکی تعلیمی فاؤنڈیشن (یو ایس ای ایف پی) میں انوویشن ہائیو کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

امریکی ناظم الامور نے کہاکہ پاکستان میں اس وقت بھی کوئی نہ کوئی کاروباری بانی ایسی کمپنی کے خیال پر کام کررہا ہے جو سیکڑوں افراد کو روزگار فراہم کرسکتی ہے اور جس کے پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں استعمال کے امکانات موجود ہیں، تاہم اسے ابھی یہ معلوم نہیں کہ اپنے خیال کو عملی شکل کیسے دینی ہے۔

ان کے مطابق انوویشن ہائیو ایسے افراد کو آغاز کے لیے ایک جگہ فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ انوویشن ہائیو یو ایس ای ایف پی، امریکی سفارتخانے، امریکی کمپنیوں اور ان سرمایہ کاروں کے درمیان شراکت داری کا نتیجہ ہے جو پاکستان کے مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔

نیٹلی بیکر نے لاہور میں ایک ایسی نئی کمپنی سے ملاقات کا حوالہ دیا جو کوڈنگ اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز تیار کررہی ہے اور اب یہ ٹولز امریکا کی بعض بڑی کمپنیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس کمپنی کے بانیوں نے اپنی صلاحیتیں پاکستان میں ہی پروان چڑھائیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے محنت کی اور اپنے تیار کردہ ٹولز کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ انوویشن ہائیو اسی نوعیت کے نئے کاروباروں کی معاونت کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ پاکستانی کاروباری افراد میں عزم اور جدت کی کمی نہیں، انہیں صرف ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں ان کا عزم ایک پائیدار کاروبار، شراکت داری اور مستقبل میں تبدیل ہوسکے۔

نیٹلی بیکر کے مطابق انوویشن ہائیو ہفتے میں پانچ دن، منگل سے ہفتہ تک کھلا رہے گا۔ یہاں تربیت، رابطہ سازی اور کمپنی شروع کرنے اور اسے وسعت دینے کے عملی مراحل کے حوالے سے امریکی ماہرین تک براہِ راست رسائی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے سال کے اختتام تک انوویشن ہائیو کے نیٹ ورک میں 250 سے زائد سرپرستوں کو شامل کرنے کی امید ہے۔ اس اقدام کے ذریعے 50 سے زیادہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کاروباری افراد، کاروبار کے تصوراتی مرحلے میں موجود 500 سے زیادہ افراد اور کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی رکھنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کی مدد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی شراکت داریوں کے نتیجے میں عملی فوائد سامنے آنے چاہییں، جن میں تجارت میں توسیع، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور امریکا سمیت دیگر ممالک میں خوشحالی کا فروغ شامل ہے۔

ان کے مطابق انوویشن ہائیو اسی تصور کو عملی شکل دیتا ہے۔ جب پاکستانی نئی کمپنیاں امریکی ٹیکنالوجی کے ساتھ ترقی کریں گی تو امریکی کمپنیوں کو صارفین، شراکت دار اور نئی منڈیاں حاصل ہوں گی، جس سے دونوں ممالک مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان پہلے ہی ملک کے نئے کاروباری نظام میں نمایاں سرمایہ کاری کرچکی ہے اور امریکا اس تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت امریکی سفارتخانے نے وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ کے ساتھ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے اور نئے کاروباروں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے شراکت داری کی ہے۔

نیٹلی بیکر نے کہاکہ امریکا پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارت میں توسیع، مشترکہ تحقیق اور جدت کو فروغ دینے، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ کھلے ماحول کی تشکیل پر کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ اقدامات امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری آسان بناتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی ایک مضبوط کاروباری ماحول کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

امریکی ناظم الامور نے کہاکہ پاکستان کی خوشحالی اور امریکا کی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق کئی دہائیوں سے یو ایس ای ایف پی پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ایک قابلِ اعتماد ادارے کے طور پر کام کررہا ہے، جس نے پاکستانیوں کی کئی نسلوں کے لیے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے یو ایس ای ایف پی کی پوری ٹیمکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔

ان کے مطابق کسی خیال کو عملی کام کی جگہ میں تبدیل کرنے کے لیے صبر اور عزم درکار ہوتا ہے، جو اس عمارت کے ہر حصے میں نظر آتا ہے۔

انہوں نے ان امریکی کمپنیوں کو بھی سراہا جنہوں نے انوویشن ہائیو کے لیے اپنے وسائل فراہم کیے۔ ان کے مطابق اسٹیورٹ پاکستان نے انوویشن ہائیو کے لیے فرنیچر عطیہ کیا، جبکہ پاپا جانز نے تقریب کے شرکا کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔

نیٹلی بیکر نے کہاکہ ان دونوں کمپنیوں کی اپنی اپنی متاثر کن کاروباری کہانیاں ہیں اور وہ کسی ایسے کاروباری شخص سے نہیں ملیں جو پیزا پسند نہ کرتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کاروباری ادارے پاکستان میں حقیقی مواقع دیکھ رہے ہیں۔

امریکی ناظم الامور نے کہاکہ رواں سال امریکا اپنی آزادی کے 250 سال مکمل کررہا ہے، جبکہ اگلے سال امریکا اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کو 80 سال مکمل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی بنیاد ایسے لوگوں نے رکھی جو مسائل حل کرتے، خطرات مول لیتے اور نئی چیزیں تعمیر کرتے تھے۔

ان کے مطابق آج پاکستان کے جدت پسند افراد کو بھی اسی روایت کا حصہ بننے کی دعوت دی جارہی ہے۔

نیٹلی بیکر نے تقریب کے بعد شرکا سے انوویشن ہائیو اور عمارت کا دورہ کرنے اور اپنے ساتھیوں، ہم جماعتوں اور دیگر جدت پسند افراد کو بھی یہاں لانے کی اپیل کی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر یو ایس ای ایف پی میں انوویشن ہائیو کے باضابطہ افتتاح کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ صلاحیت ہر جگہ موجود ہے، آج ہم ایک ایسی جگہ تعمیر کررہے ہیں جہاں مواقع ان صلاحیتوں تک پہنچ سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.