تازہ ترین

افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال، طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ

0

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بھی ملک میں سیکیورٹی سے متعلق واقعات میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یکم مئی سے 31 جولائی 2026 کے دوران طالبان مخالف مسلح گروہوں نے افغانستان کے 21 صوبوں میں 88 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں طالبان کی سیکیورٹی چوکیوں، فوجی تنصیبات اور دیگر سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل تھے۔ تاہم اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ان گروہوں کی کارروائیاں محدود اور منتشر نوعیت کی رہیں اور اس عرصے میں طالبان کے علاقائی کنٹرول کو نمایاں طور پر چیلنج نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسی عرصے کے دوران افغانستان میں مجموعی طور پر 2 ہزار 947 سیکیورٹی اور تحفظ سے متعلق واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔

بدخشاں میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق اگست میں افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے مجموعی طور پر کم از کم 50 کارروائیوں کی اطلاع دی۔ ان گروہوں نے مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف حملوں کے دعوے کیے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ نے 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران 8 صوبوں میں 21 کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی مختلف صوبوں میں متعدد حملوں کی اطلاعات جاری کیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں داعش خراسان کی سرگرمیوں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز کو بھی ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.