ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے شرائط رکھ دیں
ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر امریکا کے سامنے اپنی شرائط پیش کردی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے دوران تہران کا مؤقف پہنچایا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور مختلف محاذوں پر جاری جنگ ختم کرنے کی شرائط پیش کی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکا تک تہران کا پیغام پہنچایا گیا۔ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے، امریکی کارروائیوں کے رکنے، بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی اثاثوں کی واپسی پر زور دیا گیا ہے۔
ایران اس سے قبل بھی عندیہ دے چکا ہے کہ اگر امریکی فوجی دباؤ کم کیا جائے اور ناکہ بندی ختم کی جائے تو آبنائے ہرمز کو تقریباً ایک ہفتے میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے رابطوں کو مثبت قرار دیا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ثالثوں کے ذریعے طویل مذاکرات ہوئے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا دوبارہ کھولنے سے متعلق پیش رفت کا عالمی تیل اور توانائی مارکیٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔