نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش اور ترقی ہر شخص اور قوم کا حق ہے، تاہم ترقی کو صرف دولت پیدا کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سماجی ترقی اور انسانی وقار کے تحفظ کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں اعلامیہ برائے حقِ ترقی کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہر فرد کو بہتر مستقبل کی تلاش کا حق حاصل ہے اور ہر قوم کے پاس اسے ممکن بنانے کے لیے ضروری وسائل ہونے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ اجلاس 23 ستمبر 2026 کو منعقد ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ 40 سال قبل حقِ ترقی کے اعلامیے نے انسانوں کو ترقی کے مرکز میں رکھا اور ترقی کو عوام کا ناقابل تنسیخ حق قرار دیا۔ ان کے مطابق اعلامیے کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ترقی محض دولت پیدا کرنے کا نام نہیں بلکہ اسے سماجی ترقی، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ترقی پذیر دنیا کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے، جہاں قرضوں کی ادائیگی کے باعث مالی گنجائش محدود ہو رہی ہے اور وہ وسائل جو انسانی ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں، قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی آفات اور ٹیکنالوجی میں عدم مساوات کو بھی ترقی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات کئی برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی میں عدم مساوات پرانے معاشی و سماجی فاصلے کو ڈیجیٹل دور میں منتقل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق جس حق کو حاصل کرنے کے ذرائع ہی موجود نہ ہوں، اسے عملی طور پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان کی ترقی کی کوششیں مقامی سطح پر تیار کیے گئے معاشی تبدیلی کے منصوبے پر مبنی ہیں، جس میں برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فروغ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور مساوات و بااختیار بنانے پر توجہ شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) بھی پاکستان کے اس ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر قرضوں کے بحران سے نمٹنے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو رعایتی مالی معاونت، موسمیاتی موافقت اور نقصانات کے ازالے کے لیے مدد، جبکہ ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں موجود خلا کو کم کرنے کے لیے تعاون درکار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حقِ ترقی سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کو جلد منظور کرنے کی حمایت بھی کی اور کہا کہ حقیقی ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ دنیا کتنی آگے بڑھی بلکہ یہ ہے کہ انسانیت مجموعی طور پر کس حد تک آگے بڑھی۔