ندا یوسف شیخ کی عالمی سطح پر پذیرائی، پانی کے بحران کیلئے خدمات کا اعتراف
لاہور: پاکستانی سماجی کارکن اور سماجی کاروباری شخصیت ندا یوسف شیخ کو پانی کے تحفظ اور صاف پانی تک رسائی کے لیے خدمات پر عالمی سطح پر نمایاں کیا گیا ہے۔ انہیں 2026 کے لیے دنیا بھر سے منتخب کی گئی 17 خواتین اور جینڈر ڈائیورس واٹر ڈیفنڈرز میں شامل کیا گیا ہے۔
ندا یوسف شیخ سماجی ادارے Tayaba کی شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، جہاں وہ خصوصاً دیہی علاقوں میں خواتین اور خاندانوں کو صاف پانی تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ان کی نمایاں کاوشوں میں H2O Wheel شامل ہے، جس کے ذریعے ایک وقت میں تقریباً 40 لیٹر پانی نسبتاً آسانی سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پانی لانے کے لیے خواتین اور بچیوں کو درپیش جسمانی مشقت اور وقت کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔
Tayaba نے پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے H2O Solar، H2O Air اور H2O Chain جیسے منصوبے بھی متعارف کرائے ہیں۔ 2022 کے سیلاب کے بعد ادارے نے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی اور بحالی کے حوالے سے بھی کام کیا۔
ندا یوسف شیخ کو صاف پانی اور صفائی کے شعبے میں One Young World LEAD2030 Challenge Award حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی سماجی جدت کار کے طور پر بھی سراہا گیا ہے۔ انہیں UN Women 30 for 2030 پروگرام کے تحت علاقائی موسمیاتی جدت کاروں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
پاکستان میں صاف پانی تک رسائی ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا بوجھ بالخصوص خواتین پر پڑتا ہے۔ پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنے سے خواتین کے وقت، صحت، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ندا یوسف شیخ کی کاوشیں اسی مسئلے کے صنفی پہلو کو سامنے لاتے ہوئے ٹیکنالوجی اور سماجی کاروبار کے ذریعے پانی تک رسائی بہتر بنانے پر مرکوز ہیں۔
دنیا بھر میں پانی کے بحران پر توجہ بڑھنے کے ساتھ ندا یوسف شیخ کی خدمات بھی عالمی سطح پر نمایاں ہو رہی ہیں۔ پانی کے مستقبل اور عالمی تعاون سے متعلق اہم مباحث آئندہ ہونے والی عالمی کانفرنسوں میں بھی زیرِ بحث آئیں گے۔