وزیراعظم کی یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی
نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی وسیع البنیاد شراکت داری مزید مضبوط بنانے اور پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ قیادت کی سطح پر مسلسل رابطے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید سمت اور رفتار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کیلئے اعلیٰ سطحی روابط جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت کیلئے GSP Plus کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اس فریم ورک کے تحت یورپی یونین کے ساتھ مسلسل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان کو یکم جنوری 2014 سے GSP Plus کا درجہ حاصل ہے، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کی مارکیٹ میں بڑی تعداد میں ٹیرف لائنز پر ترجیحی یا صفر ڈیوٹی رسائی حاصل ہوئی۔ یورپی یونین کے مطابق 2014 سے 2022 کے دوران پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی تجارتی حجم 2013 کے 8.3 ارب یورو سے بڑھ کر 2022 میں 14.85 ارب یورو ہوگیا۔
ملاقات کے دوران رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور پرامن طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔