کراچی: ملکی معیشت کے آئندہ منظرنامے سے متعلق اہم پیش گوئیوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے زری پالیسی رپورٹ اگست 2026 جاری کردی، جس میں مہنگائی، معاشی نمو، کرنٹ اکاؤنٹ اور عالمی معاشی حالات کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ششماہی رپورٹ میں جنوری 2026 سے اب تک زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں، ملکی معاشی حالات اور مستقبل کے اقتصادی منظرنامے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ باربرداری اور بیمہ اخراجات بھی بڑھے، تاہم مالی سال 2026 کے معاشی نتائج بڑی حد تک جنوری میں جاری کی گئی پیش گوئیوں کے مطابق رہے۔
مرکزی بینک کے مطابق محتاط زری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو محدود رکھنے میں مدد دی، جبکہ مہنگائی سے متعلق توقعات کو قابو میں رکھنے میں بھی زری پالیسی نے اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی اقدامات نے مجموعی طلب کو اعتدال میں رکھنے میں مدد فراہم کی، جس کے باعث معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو محدود رکھنے میں معاونت ملی۔
مہنگائی اور معاشی نمو سے متعلق اندازہ
زری پالیسی رپورٹ اگست 2026 میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 کے اختتام تک مہنگائی ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہوسکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2027 کے دوران معاشی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی محدود رہنے کی توقع ہے اور اس کا تخمینہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صفر سے ایک فیصد تک لگایا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملکی معیشت میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے زری اور مالی پالیسیوں کا محتاط انداز میں استعمال اہم رہے گا۔