لبنان نے سزائے موت ختم کردی، ایسا کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا
بیروت-لبنان نے سزائے موت کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ سے متعلقہ قانون منظور کرلیا ہے، جس کے بعد ملک میں اس سزا کو قانونی طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی۔ اس اقدام کے ساتھ لبنان سزائے موت ختم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت سزائے موت پانے والے مجرموں کو عمر قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔ لبنانی حکام کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے اصولوں کو مزید مضبوط بنانا اور ریاست کی جانب سے سزائے موت کے استعمال کا خاتمہ ہے۔
لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے پارلیمنٹ سے قانون کی منظوری کو ملک کے لیے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سزائے موت ختم کرنے کا مطلب جرائم کے معاملے میں نرمی اختیار کرنا نہیں، بلکہ ریاست کی جانب سے موت کی سزا کے اصول کو مسترد کرنا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قانون کی منظوری سے قبل لبنان میں تقریباً 85 افراد سزائے موت کے منتظر تھے۔ تنظیم نے پارلیمنٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق لبنان میں آخری مرتبہ سزائے موت پر جنوری 2004 میں عمل درآمد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران ملک میں کسی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی، تاہم یہ سزا قانون کا حصہ برقرار رہی تھی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی لبنان کو قانون کی منظوری پر مبارکباد دی اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ سزائے موت ختم کرنے کے امکانات پر غور کریں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی لبنانی پارلیمنٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔
لبنانی وزیر انصاف کے مطابق سزائے موت کے خاتمے سے ایسے ممالک کے ساتھ قانونی تعاون میں بھی آسانی پیدا ہوسکتی ہے جو سزائے موت کا سامنا کرنے والے ملزمان کو ان ممالک کے حوالے کرنے سے گریز کرتے ہیں جہاں انہیں پھانسی دیے جانے کا خطرہ موجود ہو۔