زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 44 افراد ہلاک
ہرارے: زمبابوے میں گنجائش سے زائد مسافروں کو لے جانے والی کشتی جھیل میں الٹنے سے کم از کم 44 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ درجنوں افراد کو ریسکیو کرلیا گیا اور لاپتا افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے۔ مسافروں نے روانگی سے قبل اور دورانِ سفر کشتی کے کپتان سے خراب حالات کے باعث واپس کنارے پر جانے کی اپیل بھی کی، تاہم ان کے مطالبے کو نظرانداز کردیا گیا۔
حکام کے مطابق حادثے کے وقت کشتی میں سوار افراد کی اصل تعداد ابھی واضح نہیں ہوسکی۔ ابتدائی طور پر کم از کم 114 بالغ مسافر اور 5 عملے کے ارکان رجسٹرڈ تھے، تاہم ایک بچ جانے والے عملے کے رکن نے بتایا کہ اس نے روانگی سے قبل کشتی میں تقریباً 153 افراد شمار کیے تھے، جن میں بچے اور عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔
حادثے کی شکار کشتی کی مقررہ گنجائش صرف 90 افراد تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اضافی مسافروں میں بڑی تعداد کم عمر افراد کی تھی، جن کی سرکاری سطح پر ٹکٹنگ اور رجسٹریشن نہیں ہوتی، جس کے باعث کشتی میں موجود افراد کی حقیقی تعداد ریکارڈ سے کہیں زیادہ تھی۔
زندہ بچ جانے والے مسافروں کے مطابق روانگی کے کچھ ہی دیر بعد جھیل میں لہریں شدید ہوگئیں اور کشتی کے اندر پانی داخل ہونا شروع ہوگیا۔ ایک مسافر کے مطابق روانگی کے تقریباً 30 منٹ بعد کشتی میں ایک جانب سے پانی داخل ہونے لگا۔
ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ کشتی روانہ ہونے سے پہلے ہی بعض افراد نے لہروں کی شدت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جبکہ مسافروں نے کشتی واپس کنارے پر لے جانے کا مطالبہ بھی کیا، لیکن صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔
ابتدائی طور پر حکام نے 15 افراد کی ہلاکت اور 27 کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم جھیل سے مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 44 ہوگئی۔ حکام کے مطابق مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے۔
حادثے کے بعد زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ، پولیس، ریسکیو کشتیوں اور زیرِ آب تلاش کرنے والی خصوصی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
ابتدائی کارروائی کے دوران 77 افراد کو بچا لیا گیا جنہیں جھیل کے ایک چھوٹے جزیرے تک منتقل کیا گیا، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے بعد ازاں لاپتا افراد اور لاشوں کی تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔
کریبا جھیل زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر واقع ہے اور دریائے زیمبیزی پر ڈیم تعمیر کیے جانے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ پانی کے حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی بڑی مصنوعی جھیلوں میں شمار ہوتی ہے اور مقامی آبادی کے لیے نقل و حمل کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
واضح رہے کہ کریبا جھیل میں اس سے قبل بھی کشتی حادثات پیش آچکے ہیں۔ 2014 میں جھیل کے زیمبیائی حصے میں کشتی حادثے کے نتیجے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔