ایران امریکا مذاکرات کا نیا موڑ، ’سرنڈر کے بعد بات چیت کی پیشکش‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ابتدا میں ایران سے ’’غیر مشروط سرنڈر‘‘ کا مطالبہ کرنے کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے عوامی طور پر ایران سے ’’غیر مشروط سرنڈر‘‘ کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر صرف دو الفاظ لکھے تھے، ’’غیر مشروط سرنڈر‘‘۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تقریباً 20 روز کے اندر امریکا کے مؤقف میں تبدیلی آئی اور ان کے بقول وہی فریق بعد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوششیں کرنے لگا۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی مؤقف میں آنے والی یہ تبدیلی دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے۔