اردوغان کا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کو شامل کرنے پر زور
مکہ مکرمہ میں ہونے والے اہم دفاعی معاہدے نے خطے میں نئی سکیورٹی صف بندی کے امکانات پیدا کردیئے ہیں، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اس معاہدے کو مزید علاقائی ممالک تک وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
ترک صدر نے کہا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو وسیع تر علاقائی تعاون کے تناظر میں تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے دائرہ کار میں مزید ممالک کی شمولیت خطے میں دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر جمعہ کے روز ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے دستخط کیے تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث سکیورٹی صورتحال میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے سمندری آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
اردوغان کے مطابق تینوں ممالک نے معاہدے کو صرف باہمی دفاعی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع علاقائی وژن کے تحت تشکیل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مزید ممالک اس فریم ورک کا حصہ بن سکتے ہیں اور اس کے ذریعے خطے میں مشترکہ دفاعی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی عندیہ دیا تھا کہ مصر مستقبل میں اس دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق مصر کی شمولیت کے حوالے سے صرف چند تکنیکی معاملات حل ہونا باقی ہیں۔
ہاکان فیدان رواں ہفتے جمعرات اور جمعہ کو قاہرہ کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی سکیورٹی اور دفاعی تعاون سے متعلق امور بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ترکیہ اور مصر کے درمیان پہلے ہی فوجی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط موجود ہیں، تاہم مصر کی جانب سے اب تک نئے دفاعی معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
مکہ دفاعی معاہدے کی ایک اہم شق اجتماعی دفاع سے متعلق ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق اجتماعی دفاع کے اس تصور سے مماثلت رکھتی ہے جو نیٹو جیسے دفاعی اتحاد میں موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مزید علاقائی ممالک اس معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان دفاعی روابط مزید مضبوط ہوسکتے ہیں اور خطے میں مشترکہ سکیورٹی تعاون کا ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل پا سکتا ہے۔