آبنائے ہرمز کنٹرول کرنا ہے تو 100 کلومیٹر اندر آکر دکھائیں،پاسداران
تہران: آبنائے ہرمز میں امریکی سرگرمیوں سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کو اپنی بحری حدود کے قریب آنے کی صورت میں ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کردیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے مشہد میں حکومتی حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا واقعی آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے اپنے کسی بحری جہاز کو ایرانی حدود سے 100 کلومیٹر کے فاصلے تک لاکر دکھانا چاہیے۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ اس کے جنگی جہاز ایرانی حدود کے قریب پہنچے تو ایرانی فورسز کی جانب سے ردعمل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں بھی ایسی صورتحال کی ایک مثال سامنے آچکی ہے، تاہم انہوں نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
علی محمدی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس وقت خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی یا امریکی عسکری سازوسامان تعینات نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کی جانب سے حساس یا ممنوعہ حدود کے قریب آنے کی صورت میں اسے ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق کویت اور بحرین سے روانہ ہونے والے بحری جہاز بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جہاز نے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی تو قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار کے ان سخت بیانات پر امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔