ڈیجیٹل مالیات کے عالمی نظام کیلئے مشترکہ ضابطہ سازی ضروری ہے: بلال بن صاقب
اسلام آباد: پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن صاقب نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ نسل کے عالمی مالیاتی نظام کی نگرانی کیلئے ضروری ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے مشترکہ طور پر تشکیل دیں۔
بلال بن صاقب نے یہ بات اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا موضوع ’’پائیدار ترقی کیلئے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین‘‘ تھا۔ اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، تجارت و ترقی کی کانفرنس اور ٹیکنالوجی کیلئے سیکریٹری جنرل کے نمائندہ دفتر کے تعاون سے کیا۔
اجلاس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شناخت اور ذمہ دارانہ استعمال کیلئے درکار پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
بلال بن صاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، اثاثوں کی ڈیجیٹل تقسیم اور تقسیم شدہ کھاتہ ٹیکنالوجی ترقی پذیر معیشتوں کو مالیاتی ڈھانچے میں شمولیت، کارکردگی اور رسائی کو مرکز بنا کر نئی سوچ اختیار کرنے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجیز وسیع پیمانے پر استعمال ہوں گی یا نہیں، کیونکہ ایسا ہونا یقینی ہے، بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ انہیں کون تشکیل دے گا اور یہ کس کے مفاد میں کام کریں گی۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل سکوں اور ٹوکنز کی مارکیٹ کیلئے ضابطے تیار کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جن کے تحت مجازی اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کیلئے حکومتی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ 2018 میں مالیاتی خطرات کے باعث ملک میں کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
بلال بن صاقب نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں، جبکہ اربوں افراد مہنگی ترسیلات زر، سست مالیاتی منتقلی اور محدود قرضہ سہولتوں کے باعث غیر مساوی شرائط پر مالیاتی نظام کا حصہ ہیں۔
انہوں نے سرحد پار ترسیلات زر کی لاگت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 200 ڈالر بھیجنے کی اوسط لاگت اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ 3 فیصد ہدف سے اب بھی دو گنا سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اس فرق کو کم کرنے سے ہر سال اربوں ڈالر براہ راست خاندانوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیات کے فوائد صرف ادائیگیوں تک محدود نہیں۔ ڈیجیٹل شناخت اور قابلِ تصدیق مالیاتی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں، کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کو روایتی ضمانتوں اور دستاویزات پر مکمل انحصار کے بغیر اپنی معاشی سرگرمی ثابت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بلال بن صاقب کے مطابق اثاثوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے بنیادی ڈھانچے کے بانڈز اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کیلئے سرمایہ متحرک کیا جاسکتا ہے، جبکہ تقسیم شدہ کھاتہ ٹیکنالوجی سرکاری اخراجات اور رسد کے نظام میں شفافیت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کو خودکار طور پر ہر مسئلے کا حل سمجھنا درست نہیں۔ ڈیجیٹل مالیات میں عام صارفین کے مالی نقصانات، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، طاقت کے ارتکاز اور ایسے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق جیسے خطرات بھی موجود ہیں جن کے پاس جدید ضابطہ جاتی صلاحیتیں موجود ہیں اور جن کے پاس یہ صلاحیتیں محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضابطہ سازی کو جدت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ بہت تاخیر سے بنائے گئے قوانین صارفین اور منڈیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوسکتے ہیں، جبکہ خوف کی بنیاد پر بنائی گئی سخت پالیسیاں سرگرمیوں کو کم شفاف ماحول کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
بلال بن صاقب نے زور دیا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات سے یہ سبق ملتا ہے کہ ضابطہ سازی کو منڈیوں کی راہ روکنے کے بجائے انہیں مضبوط اور منظم بنانے کے عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔