ماہرنگ بلوچ نے مذاکرات سے انکار کیا، نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکسایا: بابر یوسفزئی
بلوچستان میں ماہرنگ بلوچ کے حوالے سے جاری معاملے پر معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے نادیہ بلوچ کے ٹویٹ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ماہرنگ بلوچ کے مؤقف اور سرگرمیوں پر سخت سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ماہرنگ بلوچ نے نہ صرف مذاکرات اور آئین و قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ ریاست کے خلاف الزامات عائد کرنے اور نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکسانے کا بھی عمل کیا۔
بابر یوسفزئی نے اپنے سماجی رابطے کے اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ روزِ قیامت گواہی دیں گے کہ ماہرنگ بلوچ نے بارہا مذاکرات اور پاکستان کے آئین و قانون کو ماننے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق ماہرنگ بلوچ نے پاکستان کے آئین اور قانون کے حوالے سے انتہائی غیر تہذیب یافتہ الفاظ استعمال کیے۔
معاون برائے داخلہ بلوچستان نے مزید الزام عائد کیا کہ ماہرنگ بلوچ نے دہشتگردوں کی حمایت کی اور جس ریاست نے تعلیمی وظائف کے ذریعے انہیں ڈاکٹر بننے کا موقع فراہم کیا، اسی ریاست پر ملک دشمن عناصر کو خوش کرنے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماہرنگ بلوچ نے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکسایا۔
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ماہرنگ بلوچ کے حوالے سے ان کے مؤقف اور الزامات پر وہ روزِ قیامت گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔