چینی اخبار نے سندھ طاس معاہدے کے فیصلے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دے دیا
اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی فیصلے کو چین کے معروف اخبار نے پاکستان کیلئے اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے بھارت کے مؤقف کو غیر متوقع دھچکا لگا اور پانی کے دیرینہ تنازع میں پاکستان کی قانونی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔
چینی اخبار کے مطابق مستقل ثالثی عدالت نے 31 اگست کو قرار دیا کہ بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کیلئے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ عالمی ثالثی ٹریبونل نے مقبوضہ کشمیر میں رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق بھی بعض امور پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پانچ رکنی عالمی ٹریبونل نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی سے متعلق مؤقف مسترد کردیا، جس کے نتیجے میں پانی کے تنازع میں پاکستان کے قانونی مؤقف کو مزید تقویت ملی ہے۔
چینی اخبار نے فیصلے کو پاکستان کے حق میں واضح پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اختیار کردہ تشریح کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور متعدد جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی ثالثی فیصلے کے بعد پاکستان کے پاس پانی کے وسائل اور بھارتی پن بجلی منصوبوں سے متعلق جاری تنازع میں ایک اہم سفارتی اور قانونی نکتہ موجود ہے۔ اسلام آباد مسلسل مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
چینی اخبار کے مطابق عالمی ٹریبونل کے فیصلے نے بھارت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے پاکستان کے مقدمے کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل اور بھارتی پن بجلی منصوبوں پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔