تازہ ترین

حوثیوں کا باب المندب کی جانب بڑھتا کنٹرول، امریکا کیلئے نیا سکیورٹی چیلنج

0

واشنگٹن: یمن میں حوثیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی نے امریکا کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور پیچیدہ مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ حوثی جنگجو اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے ساتھ ساتھ امریکی حکمت عملی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ایران کے اتحادی حوثیوں نے یمن کے ساحلی علاقوں میں جنوب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی ہے، جس کے نتیجے میں باب المندب آبنائے کو متاثر کرنے یا اس پر دباؤ بڑھانے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع یہ آبنائے عالمی بحری تجارت کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

حوثی جنگجو جمعے کو پریم جزیرے تک پہنچ گئے، جو یمن اور افریقی ساحل کے درمیان باب المندب کے وسط میں واقع ایک اہم مقام ہے۔ ان کی یہ پیش قدمی خطے کی موجودہ جنگی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی قرار دی جارہی ہے۔

صورتحال مزید سنگین اس لیے بھی ہوسکتی ہے کہ ایران سے وابستہ قوتیں خطے کی دونوں اہم تیل گزرگاہوں، آبنائے ہرمز اور باب المندب، پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن حاصل کرسکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کیلئے حوثیوں کی پیش قدمی خاص طور پر تشویش کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے بعد سعودی عرب اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ باب المندب پر دباؤ بڑھنے کی صورت میں اس متبادل راستے کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے بھی ایک نئی آزمائش بن گئی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ پہلے ہی ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے جبکہ امریکا میں پٹرول کی بلند قیمتوں سمیت جنگ کے معاشی اثرات سیاسی دباؤ میں اضافہ کررہے ہیں۔

امریکی حکام کیلئے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ باب المندب میں آزادانہ بحری آمدورفت کو برقرار رکھا جائے، لیکن حوثیوں کے خلاف ایک نئی براہِ راست جنگ میں داخل ہونے سے بھی گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے خطے میں جاری تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے فوجی مدد طلب کی، تاہم واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے مطابق حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کرکے واشنگٹن سے براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونے کی درخواست کی ہے۔

امریکا کی موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ علاقائی اتحادی خود اپنی سلامتی کے معاملات کی قیادت کریں جبکہ واشنگٹن بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھے۔

ایران نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ یمن کا مسئلہ محاصرے یا فوجی کارروائی کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کیلئے مذاکرات اور سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.