اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں 200 فیصد اپنا دوست سمجھتے ہیں اور سیاسی اختلافات ذاتی تعلقات پر اثرانداز نہیں ہونے چاہئیں۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ان کا بہت پرانا تعلق ہے اور سیاست کسی کے باہمی تعلقات کو خراب نہیں کرتی۔
اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے یہ کہنا کہ اس نے گورنر راج کے معاملے میں کبھی حصہ نہیں مانگا، معصومیت کا اظہار ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ پہلے بھی اختلافات رہے ہیں، تاہم معاملات کبھی اس حد تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مولانا کے بیان پر فوری ردعمل نہیں دینا چاہتے تھے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ انہیں اپنی ذات پر تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم مولانا فضل الرحمٰن حکومت کی ساکھ کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا کا دامن صاف ہے تو انہیں اپنے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ خواجہ آصف ان کے بھائیوں کی طرح ہیں اور انہوں نے تو انہیں صرف گدگدی کی تھی، لیکن وزیر دفاع کو ایک روز بعد غصہ آیا۔ مولانا کا کہنا تھا کہ جو بات ایک روز بعد یاد آئے تو مکا اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔