قطر کا ثالثی وفد تہران پہنچ گیا، عباس عراقچی سے امریکی معاہدے پر بات چیت
تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے، قطر کا ثالثی وفد تہران پہنچ گیا ہے جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مجوزہ سمجھوتے کے امکانات پر بات چیت کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق قطری وفد پیر کی رات گئے تہران پہنچا۔ زیرِ غور مجوزہ معاہدے پر گزشتہ آٹھ روز سے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ اس منصوبے کو امریکا اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے لیے ایک نئے مسودے اور وژن کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دوحہ اور اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں فعال ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کے مطابق ثالثی کے عمل کے دوران درجنوں ٹیلی فونک رابطے کیے گئے اور بھرپور سفارتی کوششیں جاری رہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران سفارتکاری اور جنگ، دونوں صورتحال کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ اب فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہے کہ وہ مذاکرات کا دانشمندانہ راستہ اختیار کرتا ہے یا دوبارہ فوجی کارروائی کی غلطی دہراتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے سفارتی حل کے لیے واضح منصوبہ اور منصفانہ شرائط پیش کردی ہیں۔ ان کے مطابق دشمن کی جانب سے کسی نئے فوجی اقدام یا دھوکے کی صورت میں جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا اور ایران کسی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے پر ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایرانی حکام اہم شراکت داروں کے ساتھ علاقائی امن اور سلامتی کے معاملات پر مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے علی باقری کے دورہ بیجنگ کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے تزویراتی مشاورت کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی سے خطے کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کی مستقل ترجیح ہے۔