ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیا
عالمی منڈی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی اطلاعات نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی اور برطانوی خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 20 سینٹ یعنی 0.21 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر 66 سینٹ فی بیرل ہوگئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 سینٹ یعنی 0.03 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 104 ڈالر 80 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے اور تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹوں کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز سمیت خطے کی اہم بحری گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل عالمی منڈی میں دونوں اہم اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت ایرانی اور قطری حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہوئے تھے، جس سے سرمایہ کاروں میں مثبت توقعات پیدا ہوئی تھیں۔
تاہم جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی اطلاعات کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ نمایاں ہوگئے ہیں، جس کا اثر خام تیل کی قیمتوں پر بھی دیکھا گیا۔