تازہ ترین

امریکی وسط مدتی انتخابات، کانگریس پر کنٹرول کے لیے دونوں جماعتوں میں سخت مقابلہ

0

واشنگٹن: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے سیاسی مستقبل اور ری پبلکن پارٹی میں ان کے اثر و رسوخ کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انتخابی معرکے میں پانچ اہم معاملات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، جن میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں، ری پبلکنز کی مضبوط ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی، ٹیکساس کی سینیٹ نشست، ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کا امتحان اور خود صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت شامل ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ ری پبلکنز کو مہنگائی، ایران کے ساتھ جاری جنگ، حکومتی بدعنوانی کے تاثر اور امیگریشن پالیسی پر عوامی ناراضی کا سامنا ہے۔

انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی

2025 اور 2026 کے دوران ری پبلکنز کے زیرِ اقتدار بعض ریاستوں میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندیاں کی گئیں، جن کا مقصد ڈیموکریٹس کے مضبوط حلقوں میں انتخابی کامیابی کے امکانات کو محدود کرنا تھا۔ ڈیموکریٹس نے بھی ان اقدامات کے جواب میں اپنی انتخابی حکمت عملی ترتیب دی۔

ٹیکساس اور فلوریڈا میں ری پبلکنز نے نو نشستوں کے انتخابی حلقوں کو اپنے لیے زیادہ سازگار بنایا، تاہم انتخابی تجزیوں کے مطابق ان میں سے صرف تین نشستوں پر انہیں واضح برتری حاصل ہے۔

ہسپانوی ووٹرز کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 16 اکتوبر کے سروے کے مطابق 51 فیصد رجسٹرڈ ہسپانوی ووٹرز نے ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 24 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔

ری پبلکنز کی مضبوط ریاستوں میں سخت مقابلہ

کنساس، مسیسیپی اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستوں میں سینیٹ کے مقابلے بھی توقعات سے زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔ کنساس میں ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کا سامنا ہے، جبکہ مسیسیپی میں سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم نے انتخابی دوڑ کو دلچسپ بنادیا ہے۔

جنوبی کیرولائنا میں بھی ری پبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز کی جانب سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کو مینیسوٹا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستوں میں مشکلات کا سامنا ہے، جہاں ان کے امیدواروں کو معمولی برتری حاصل ہے۔

ٹیکساس کی سینیٹ نشست اہم کیوں ہے؟

ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پارٹی کے لیے بڑی سیاسی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کو ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کا سامنا ہے، جنہیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ انتخابی جائزوں میں ٹالاریکو کو معمولی برتری دکھائی گئی ہے۔

سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز کی چار نشستیں جیتنے کے ساتھ اپنی تمام موجودہ نشستیں بھی برقرار رکھنا ہوں گی۔ ٹیکساس میں کامیابی انہیں اس ہدف کے قریب پہنچا سکتی ہے۔

دوسری جانب ایلون مسک نے اکتوبر کے آخر تک کین پیکسٹن کی انتخابی مہم پر کم از کم 189.6 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔

ڈیموکریٹس کے ترقی پسند دھڑے کا امتحان

مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید اور سابق ری پبلکن رکن کانگریس مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم میں عوامی فلاح، یکساں طبی سہولیات، ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں پر ٹیکس بڑھانے اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے وعدوں کو نمایاں کیا ہے۔

ان کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے وابستہ امیدواروں کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تاہم پارٹی کے بعض اعتدال پسند رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ انتہائی بائیں بازو کی سیاست کی طرف جھکاؤ انتخابی نتائج میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کی مقبولیت اور سیاسی مستقبل

وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور ری پبلکن پارٹی پر ان کے اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کی سخت نگرانی اور مختلف تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، محصولات، معیشت اور امیگریشن سے متعلق فیصلوں پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ بعض ری پبلکن رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران صدر سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم انتخابی شکست کے بعد بھی پارٹی میں ٹرمپ کی گرفت کم ہونا یقینی نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے نتائج کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ری پبلکن رہنما عوامی ناراضی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی سیاسی حکمت عملی اور قیادت پر نظرثانی کرتے ہیں یا انتخابی ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اسی راستے پر آگے بڑھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.