تازہ ترین

امریکا شمالی کوریا سے مذاکرات کے لیے تیار، ممکنہ سربراہی ملاقات زیرِ بحث

0

واشنگٹن: امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوگئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات میں دلچسپی ظاہر کیے جانے کے بعد ممکنہ سربراہی مذاکرات کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان براہِ راست بات چیت کا امکان ایسے وقت میں زیرِ بحث آیا ہے جب 2019 میں ہنوئی سربراہی اجلاس ناکام ہونے کے بعد جزیرہ نما کوریا میں سفارتی عمل تعطل کا شکار رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے ہی کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ رابطے اور ملاقات میں دلچسپی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے کم جونگ اُن کو ذہین شخص قرار دینے سمیت مختلف مواقع پر ان سے دوبارہ ملاقات کے امکانات کا ذکر کیا ہے۔

ممکنہ مذاکرات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا ابتدائی مرحلے میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کی پیشگی یقین دہانی کو لازمی شرط بنائے بغیر بات چیت شروع کرنے پر آمادہ ہو۔ اس طریقہ کار سے دونوں ممالک کو اپنے بنیادی اختلافات حل کرنے سے پہلے مذاکراتی عمل بحال کرنے کا موقع مل سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ شمالی کوریا اس پیشکش کو قبول کرے گا یا نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے 2 اکتوبر کو بریفنگ کے دوران واشنگٹن کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو کوئی رعایت نہیں سمجھتے اور جب امریکی قومی مفادات کا تقاضا ہو تو وہ کسی بھی رہنما سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

امریکا اور چین کے درمیان ستمبر میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران بھی شمالی کوریا سے متعلق امور زیرِ بحث آئے تھے۔ اس ملاقات کو پیانگ یانگ کے ساتھ دوبارہ سفارتی رابطوں کے لیے ممکنہ گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات ممکن ہوپائے گی، اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا وقت کیا ہوگا اور دونوں ممالک مذاکرات کو کس انداز میں آگے بڑھائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.