تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی، اسرائیل کی فوجی مشقیں اور تیاریاں تیز

0

ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی فوجی تیاریاں اور مشقیں تیز کردی ہیں، تاہم اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب پروازیں کیں۔ ان مشقوں کا مقصد ممکنہ فضائی حملوں کے لیے راستوں اور آپریشنل منصوبہ بندی کو جانچنا تھا۔

رپورٹ میں اسرائیلی سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ لائحہ عمل اہم ہوگا کہ آیا وہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ مل کر نئی فوجی کارروائی کی منظوری دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے منصوبے صدر ٹرمپ کو پیش کرچکے ہیں، تاہم امریکا کی جانب سے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اس دوران گزشتہ چند روز میں امریکی فوج کے 10 ٹرانسپورٹ طیارے اسرائیلی فوجی اڈوں پر پہنچے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان طیاروں کے ذریعے خطے میں فوجی سازوسامان اور دیگر ضروری وسائل منتقل کیے جارہے ہیں۔

اسرائیلی سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی میں امریکا کے لیے اہم سوال اس کے تزویراتی اہداف کا تعین ہوگا۔ ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل پروگرام اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے باوجود اس بات کی ضمانت نہیں کہ ایرانی حکومت ختم ہوجائے گی یا اس کی پالیسیوں میں تبدیلی آجائے گی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں حزب اللہ کی شمولیت سے تنازع لبنان تک پھیل سکتا ہے اور لڑائی طویل ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسی صورتحال میں اسرائیلی فضائی دفاعی نظام پر مسلسل حملوں کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.