تازہ ترین

پاکستان سمیت آٹھ ممالک کا امریکا کو ایران کے خلاف نئی جنگ سے گریز کا پیغام

0

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان سمیت آٹھ یورپی اور علاقائی ممالک نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے خطے اور عالمی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

استنبول میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ای تھری پلس آر فور وزرائے خارجہ کے پہلے اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ نے شرکت کی، جبکہ اٹلی بھی اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس میں شریک ممالک نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر ایک اور فوجی حملہ کشیدگی میں اضافے اور علاقائی و عالمی استحکام کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سفارتی کوشش کی اہمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد مزید بڑھ گئی ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اس سے قبل جون 2025 میں اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا تھا، جس کے بعد امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا تھا۔

اداریے کے مطابق رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایک اور بڑی فوجی کارروائی میں ایرانی فوجی کمانڈروں، سیاسی و مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم ایران نے جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھی۔ اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قیادت کو نشانہ بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے لازماً کسی ملک کو سیاسی طور پر جھکایا نہیں جاسکتا۔

تحریر میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران پر ایک اور حملے کے نتیجے میں جوابی کارروائی، پڑوسی ممالک کی جنگ میں شمولیت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے و عالمی بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں طویل تعطل عالمی تیل کی فراہمی، توانائی کی قیمتوں اور خوراک و کھاد کی ترسیل کو متاثر کرسکتا ہے۔

اداریے کے مطابق اس بحران کے معاشی اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی محسوس ہوں گے اور ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس میں واشنگٹن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نئی فوجی کارروائی کی حمایت کے بجائے سفارتی ذرائع اختیار کرے اور اسرائیل کو مزید کشیدگی سے روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

تحریر میں غزہ پر اسرائیلی حملوں، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی توسیع کو بھی خطے میں عدم استحکام کی وجوہات قرار دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کو دیرپا امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اداریے میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کے ساتھ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے سفارتی کردار کی حمایت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق امریکا کو تہران کے ساتھ بامعنی مذاکرات، اعتماد سازی اور تمام فریقوں کی جانب سے خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور بحری راستوں کی آزادی کے احترام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.