تازہ ترین

وزیراعظم اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، سیاسی اختلافات بات چیت سے حل ہونے چاہئیں، رانا ثنا اللہ

0

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی پالیسی مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ محاذ آرائی نہیں، انہیں امید ہے کہ حالیہ سیاسی اختلافات کا معاملہ مزید آگے نہیں بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے عملی پیشرفت پر آمادہ ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے تاحال واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان کے انتخابی نظام، الیکشن کمیشن کے ڈھانچے، چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات اور متعلقہ قوانین میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جن کی نشاندہی سپریم کورٹ کے کمیشن نے بھی کی تھی۔ ان کے مطابق جب تک ان خامیوں کو دور نہیں کیا جائے گا، انتخابی شکایات اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ رہے گا۔

انہوں نے 2013 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھائے، چار حلقے کھولنے اور نتائج کے آڈٹ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد تقریباً 126 روز تک دھرنا دیا گیا۔ ان کے بقول اس احتجاج سے ملکی معیشت متاثر ہوئی اور متعدد مسائل پیدا ہوئے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتخابی تنازعات کا جائزہ لینے کے لیے اس وقت ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا، جس نے پورے انتخابی نظام کا جائزہ لے کر بعض بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، تاہم اس نے انتخابی عمل کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کی سفارش نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت بھی تمام متعلقہ فریق انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر متفق تھے، لیکن سیاسی اختلافات کے باعث عملی پیشرفت نہ ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی دھاندلی کے الزامات لگائے اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کی 35 نشستیں انتخابی دھاندلی کے ذریعے چھینی گئیں۔ ان کے مطابق اس وقت کی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ 2013، 2018 اور اب 2026 میں بھی انتخابی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ نظام میں موجود خامیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف انتخابی نظام کی اصلاح کے لیے پیشرفت کی منظوری دے چکے ہیں، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک نہ واضح حمایت سامنے آئی ہے اور نہ مخالفت۔

پارلیمانی کمیٹیوں میں جماعتوں کی نمائندگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جاتی ہے، جبکہ بڑی جماعتوں کو ان کی پارلیمانی حیثیت کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متناسب نمائندگی کے نظام پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے اور اسے انتخابی اصلاحات کے عمل میں زیر غور لایا جاسکتا ہے۔

اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بات چیت کے لیے تیار ہیں اور وہ خود اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی دعوت دینے گئے تھے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود رابطوں اور مذاکرات کا راستہ کھلا رہنا چاہیے تاکہ قومی اور سیاسی معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جاسکیں۔

مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی یہ پالیسی نہیں کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کے خلاف محاذ آرائی کی جائے یا ایسی بات کی جائے جس سے ان کی دل آزاری ہو۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کا احترام دونوں جانب سے ہونا چاہیے اور انہیں امید ہے کہ اس معاملے کی دوسری قسط سامنے نہیں آئے گی۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت آپریشنز کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں زیادہ مؤثر ہونے کی توقع ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکا نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق طے شدہ حکمت عملی کے تحت کارروائیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.