واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صحت اور مسلسل انتخابی سرگرمیوں سے متعلق صحافی کے سوال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اس پر تنقید کی، جبکہ ریپبلکن پارٹی نے صدر کے ویک اینڈ پر ہونے والے دو انتخابی جلسے منسوخ کرکے ان کی جگہ ورچوئل ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی کیرولائنا کے انتخابی دورے سے واشنگٹن واپسی پر ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ مسلسل سفر سے تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں اور ان کی صحت کیسی ہے؟ اس پر ٹرمپ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہیں اور صحافی کو اپنے سوال پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
صدر ٹرمپ نے رپورٹر سے کہا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں اپنی صحت درست کرنی چاہیے۔ انہوں نے صحافی کی ظاہری شکل پر بھی نامناسب تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدصورت دکھائی دیتا ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ رپورٹر گزشتہ دو ہفتوں سے ان کے ساتھ ہے، لیکن ان کی توانائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی اور ریپبلکن نیشنل کمیٹی نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے ہفتے اور اتوار کو ہونے والے انتخابی جلسے منسوخ کردیے گئے ہیں۔ ان میں ہفتے کے روز کینساس کے شہر سلینا اور اتوار کو آئیووا کے شہر ڈوبیوک میں ہونے والے اجتماعات شامل ہیں۔
کینساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن کی جانب سے سخت انتخابی مقابلے کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے مارشل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔ آئیووا میں بھی کانگریس کی متعدد نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔
منسوخ شدہ جلسوں کے متبادل کے طور پر ریپبلکن پارٹی کم از کم 19 ریاستوں میں ورچوئل ٹیلی ریلیوں کا انعقاد کرے گی۔ یہ سرگرمیاں ‘میک امریکا گریٹ اگین’ کے تعاون سے منعقد کی جائیں گی۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے مطابق ان پرسن جلسوں کی منسوخی کے باوجود پارٹی کی انتخابی پوزیشن مضبوط ہے۔
صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے دوران انتخابی مہم میں خاصی سرگرمی دکھائی اور یکم اکتوبر سے اب تک 19 ریاستوں میں 25 بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔ ان اجتماعات کی اکثریت دیہی اور ریپبلکن حمایت یافتہ علاقوں میں منعقد ہوئی۔
مسیسپی میں ایک انتخابی تقریب کے دوران گلا بیٹھنے کے بعد ٹرمپ نے مسلسل جلسوں کی دشواری کا اعتراف بھی کیا تھا۔ انہوں نے تقریر میں کہا تھا کہ خدا نے انسان کی آواز کو روزانہ انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے کے لیے نہیں بنایا۔ جمعرات کو انہوں نے جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا۔
3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات امریکی سیاست کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات سے طے ہوگا کہ ریپبلکن پارٹی امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے اپنی جماعت سے کہا ہے کہ انتخابی مہم اس انداز میں چلائی جائے جیسے وہ خود بھی بیلٹ پر موجود ہوں۔ ان کا آخری بالمشافہ انتخابی جلسہ جمعے کو فلوریڈا میں منعقد ہوگا۔