اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے قائم ہونے والی پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنی نمائندگی یقینی بنائیں اور انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے عمل میں فعال کردار ادا کریں۔
اپوزیشن وفد سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی گئی، جس میں انہیں دونوں ایوانوں میں قائم ہونے والی انتخابی اصلاحات کمیٹیوں میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کمیٹی میں نہ صرف اپنی نمائندگی یقینی بنانی چاہیے بلکہ اپنے تحفظات کا بھی کھل کر اظہار کرنا چاہیے۔ پارلیمانی کمیٹیاں قانون سازی اور پارلیمانی امور کا اہم حصہ ہوتی ہیں، اگر اپوزیشن ان میں شریک نہیں ہوگی تو اس کے تحفظات دور کرنے کے لیے مؤثر مشاورت کیسے ممکن ہوگی۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہر دور میں انتخابی اصلاحات کے لیے اتفاق رائے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو ان قائمہ کمیٹیوں میں بھی واپس آنا چاہیے جن کا انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے ان کی تجاویز خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ سنیں اور مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا ہے۔ انہیں امید ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آئے گا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جا چکی ہے اور اسپیکر قومی اسمبلی جلد اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی باقی ہے۔ مجوزہ کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں قومی اسمبلی سے 20 اور سینیٹ سے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ کمیٹی میں جماعتوں کو نمائندگی ایوانوں میں ان کی عددی حیثیت کے مطابق دی جائے گی۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق کمیٹی کے قیام کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کے لیے پارلیمانی مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں کی مثبت اور قابلِ عمل تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کسی ایک سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔