اسلام آباد: وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک بھر میں 5 ہزار 143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 410 دہشت گرد ہلاک، 806 زخمی اور 3 ہزار 518 گرفتار ہوئے۔
وزارت داخلہ کے مطابق یہ اعداد و شمار قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی اور انتہا پسندانہ مواد کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے پیش کیے گئے۔ قومی ایکشن پلان 2014 میں شروع کیا گیا تھا، جبکہ 2021 میں اس پر نظرثانی کی گئی۔ نظرثانی شدہ منصوبے میں 14 نکات اور 245 اہم اقدامات شامل ہیں۔
وزارت نے اعتراف کیا کہ آن لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاسکی۔ اس حوالے سے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئی ہے، جبکہ ریاست مخالف پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی بھی شروع کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کی درخواستوں میں سے 23.7 فیصد، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی درخواستوں میں سے 47 فیصد پر عمل کیا گیا۔ پلیٹ فارم کے لحاظ سے ایکس نے 7.4 فیصد، یوٹیوب نے 1.9 فیصد اور فیس بک نے 38 فیصد متعلقہ مواد ہٹایا۔
وزارت کے مطابق آن لائن انتہا پسندانہ مواد سے متعلق درخواستوں کی 97.7 فیصد تعداد پنجاب سے تھی، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں متعلقہ حکام کی درخواستوں پر عمل درآمد کی شرح صفر رہی۔
وزارت داخلہ نے مزید بتایا کہ قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) نے رواں مالی سال کے لیے 2.98 ارب روپے سے زائد کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے 1.3326 ارب روپے مختص کیے۔ دہشت گردی کے خلاف اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے نیکٹا کو ڈویژن کا درجہ دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ایک الگ بیان میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران 3 لاکھ 26 ہزار سے زائد قومی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جن میں سے 2026 میں 2 لاکھ 55 ہزار 139 کارڈ منسوخ ہوئے۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں جعل سازی کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والے افغان شہریوں سے متعلق مقدمات سامنے آنے کے بعد کی گئیں۔