لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے
رپورٹس کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنا استعفیٰ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔
اپنے استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے بتایا کہ ذاتی وجوہات (بشمول میری حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل) اور ذیل میں بیان کردہ ضمیر کے تقاضوں کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے جج کے منصب سے اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینا میرے لیے اعزاز کی بات رہی ہے. عدلیہ میں گزارے یہ سال میری زندگی کے انتہائی پُر معنی اور شاندار سالوں میں شامل ہیں. اپنے دورِ کار کے دوران، میں نے مختلف زمروں کے 23,000 سے زائد کیسز نمٹائے، اور ہمیشہ آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ، اور بغیر کسی خوف یا مراعات کے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی.
تاہم، میری سنجیدہ رائے میں، چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے ذریعے کی جانے والی تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچایا ہے. میں نے عدلیہ کے اداروں پر ایگزیکٹو (انتظامیہ) کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو دیکھا ہے، جو ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے. میرے نزدیک اس طرح کی مداخلت نے عدلیہ کی آزادی اور عدائتی عمل کی غیرجانبدارانہ حیثیت پر عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے.