کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں ایل پی جی کی قیمت بڑھ کر 550 سے 580 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کے مطابق دو ماہ قبل ایل پی جی 220 سے 250 روپے فی کلو فروخت ہورہی تھی، تاہم قیمتوں میں اضافے کے بعد متبادل ایندھن بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔
کوئٹہ میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ سوئی گیس کے کم پریشر اور غیر اعلانیہ بندش کے باعث شہری کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کررہے ہیں۔
ایک شہری کے مطابق پہلے گیس بھرانے پر ماہانہ تقریباً 19 سے 20 ہزار روپے خرچ ہوتے تھے، لیکن اب یہی خرچ بڑھ کر 50 سے 55 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود آمدن میں اتنے زیادہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہے۔
دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں مارکیٹ سے گیس 500 سے 550 روپے فی کلو میں مل رہی ہے، جس کے باعث کم قیمت پر فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں اور فراہمی کی نگرانی کی جائے اور سوئی گیس کے پریشر میں بہتری لائی جائے تاکہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار نہ کرنا پڑے۔