اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی نئی ماڈل جیل مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قیدیوں کی منتقلی سے متعلق فیصلہ اسلام آباد انتظامیہ کرے گی۔
عطا اللہ تارڑ نے پاکستان کی علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو کی اور تہران میں ہونے والی حالیہ ملاقات کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے اس ملاقات کے انعقاد اور مسلم ممالک کو یکجا کرنے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔
وزیر اطلاعات نے امید ظاہر کی کہ تہران اجلاس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بتایا کہ اس معاملے پر مشاورت تاحال شروع نہیں ہوئی، جبکہ دسمبر اور اس کے بعد کی صورتحال آئندہ اقدامات کا تعین کرے گی۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے صوبائی حکومت کی واپسی سے متعلق مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ان کے اقدامات سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کی بہنوں کی حراست کے معاملے پر کہا کہ حکام نے امن و امان سے متعلق خدشات کے پیش نظر انہیں حفاظتی تحویل میں رکھا ہے۔ ان کے مطابق رہائی کے بارے میں فیصلہ باقی سکیورٹی خطرات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں کی سرگرمیوں اور بیانات پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بھارتی میڈیا نے ان کے بیانات نشر کیے۔