اسلام آباد: پاکستان اور بحرین نے دوطرفہ معاشی تعلقات کو وسعت دینے اور خلیجی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کیلئے تجارتی تعاون تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے کوششیں آگے بڑھائیں گے۔
یہ اتفاق پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔
دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر باقاعدہ مشاورت کیلئے حکومتی سطح پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس گروپ کے ذریعے معاشی تعلقات سے متعلق امور میں رابطہ کاری اور تعاون کو منظم بنایا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ توانائی کے شعبے میں تعاون کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ آئندہ ماہ اجلاس کرے گا، جس میں تیل، گیس اور معدنیات سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
اسحاق ڈار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں، جو معاشی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں جانب سے صنعت، زراعت، غذائی تحفظ، اعلیٰ تعلیم، فنی تربیت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، رسد اور بحری امور میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستانی ہنرمندوں اور پیشہ ور افراد کیلئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے افرادی قوت کی نقل و حرکت، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ فریقین نے خلیجی خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارتی رابطوں کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا۔
افغانستان اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کا مؤقف دہرایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے یکطرفہ فیصلے پر بھی اعتراض کیا۔
دونوں ممالک نے فلسطین کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور دیرپا حل کی ضرورت پر زور دیا۔