پشاور: 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت 4 افراد کو نامزد کردیا ہے۔ پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی پیش رفت رپورٹ میں ویڈیوز اور تصاویر کی فرانزک و نادرا تصدیق کو نامزدگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت کے دوران تھانہ شرقی پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی موقع پر موجودگی کی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر کی نادرا اور لاہور کی فرانزک سائنس ایجنسی سے تصدیق کرائی گئی تھی۔ پولیس کے نامزد افسران نے متعلقہ اداروں سے فرانزک تصدیقی رپورٹس حاصل کیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فراہم کردہ ویڈیوز اور تصاویر کے فرانزک جائزے سے متعلقہ افراد کی موقع پر موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
پولیس کے مطابق سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم اور کامران بنگش کی موجودگی کی نادرا اور لاہور فرانزک لیب سے تصدیق ہوئی، جس کے بعد انہیں کیس کی پیش رفت رپورٹ میں نامزد کیا گیا۔
پولیس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نادرا ریکارڈ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹس کی روشنی میں افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، جبکہ فرانزک رپورٹ میں ویڈیو مواد کے ذریعے سہیل آفریدی سمیت دیگر افراد کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر پہلے ہی ملزمان کی نشاندہی کرچکے ہیں اور ان کا بیان بھی مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ پیش رفت رپورٹ کی روشنی میں نامزد افراد کے خلاف چالان بھی عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق پولیس کی پیش رفت رپورٹ اہم ہے اور اس میں اہم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اب پولیس باقاعدہ طور پر ان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرائے گی۔
یاد رہے کہ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر صورتِ حال پرتشدد ہوگئی تھی۔ اس دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور وہاں توڑ پھوڑ کے ساتھ آگ لگائی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر صوبائی حکومت اور خیبر پختونخوا پولیس کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
صوبائی حکومت نے پولیس کے اختیارات سے متعلق پولیس ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ بھی تیار کیا ہے۔ مجوزہ ترامیمی مسودے میں پولیس کے بعض انتظامی اور پالیسی اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
مسودے میں آئی جی خیبر پختونخوا کی تعیناتی اور اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلوں سے متعلق اختیارات وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔