تازہ ترین

موجودہ صورتحال میں تحمل اور باہمی احترام سے کام لینا ہوگا: ناصر حسین شاہ

0

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج سے قبل سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے حکومت اور اپوزیشن دونوں پر تحمل اور لچک کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں باہمی احترام اور سمجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جبکہ حکومت کو بھی سیاسی صورتحال میں لچک دکھانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک پہلے ہی دہشت گردی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے حالات میں بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں کو احتجاج کے لیے جمع کرنا ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اس قانون کا استعمال درست نہیں۔ انہوں نے ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر بھی سوالات اٹھائے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے احتجاج کے حوالے سے حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو احتجاج کرنے والے ہجوم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی علاج سے متعلق حکومت کا مؤقف بھی بیان کیا اور کہا کہ اس معاملے پر حکومت عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرچکی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے گرفتاریوں کی تعداد سے متعلق دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار افراد کی تعداد اتنی نہیں جتنی پارٹی کی جانب سے بیان کی جارہی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے اسلام آباد کو تباہ کرنے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان کے بعد حکومت کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے نرمی کی گنجائش مزید کم ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اسلام آباد میں کسی بھی پرتشدد سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی۔

ناصر حسین شاہ نے موجودہ کشیدہ صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطے اور تحمل کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ پی ٹی آئی اور حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.