لندن: سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، تاہم پیپلزپارٹی نے اپنے مؤقف میں کسی تبدیلی کے بجائے صوبے کی تقسیم کی مخالفت پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان لندن میں ہونے والی پانچ گھنٹے طویل ملاقات میں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات آصف علی زرداری کی لندن میں واقع رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں بلاول بھٹو زرداری کی بہن بختاور بھٹو زرداری بھی شریک تھیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان کی سیاسی اور مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ سندھ کی تقسیم سے متعلق جاری بحث بھی خصوصی طور پر زیر غور آئی۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت نے سندھ کو تقسیم کرنے کی کسی بھی تجویز کے خلاف پارٹی کے موجودہ مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔
ملاقات میں پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپور کی حالیہ تقریر پر بھی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری اپنی رہائش گاہ روانہ ہوگئے۔ بلاول نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ چند روز لندن میں موجود رہیں گے اور آنے والے دنوں میں صحافیوں سے ملاقات بھی کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹوں کے قیام سے متعلق بحث دوبارہ زور پکڑ چکی ہے۔ 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم، علاقائی حدود میں تبدیلی یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔
قرارداد میں واضح کیا گیا تھا کہ سندھ اسمبلی صوبے کی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گی۔
نئے صوبوں کے معاملے پر بلاول بھٹو زرداری پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی کا مؤقف واضح ہے اور صوبوں سے متعلق فیصلے اتفاق رائے کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے متعلق کسی بھی معاملے پر صوبائی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے۔
نئے انتظامی یونٹوں کی بحث کا آغاز جولائی کے آخر میں اس وقت ہوا جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹ بنانے کی تجویز دی۔ بعد ازاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان میں 12 سے 15 صوبے بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے اس معاملے پر قومی سطح پر بحث اور سیاسی اتفاق رائے پر زور دیا۔
ان تجاویز کو سندھ میں پیپلزپارٹی کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپلزپارٹی پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت کرتی ہے لیکن وسیع تر انتظامی تبدیلیوں کی بات ہونے پر سندھودیش کا مؤقف سامنے آتا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نئے صوبوں کی بحث کو قبل از وقت قرار دیا، جبکہ پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبوں سے متعلق معاملات پر متعلقہ اسمبلیوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔
لندن میں بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی پانچ گھنٹے طویل ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پارٹی اپنے موجودہ مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔