40 روزہ جنگ میں ایک گھنٹہ بھی تیل برآمدات نہیں رکیں، ایرانی وزیر کا بڑا دعویٰ
تہران: ایرانی وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایران کی خام تیل کی برآمدات ایک گھنٹے کے لیے بھی معطل نہیں ہوئیں، حالانکہ اس عرصے میں توانائی کی تنصیبات کو حملوں کا سامنا رہا اور تیل کی ترسیل کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق محسن پاک نژاد نے بتایا کہ 28 فروری سے عارضی جنگ بندی تک جاری رہنے والے جنگی حالات میں ایران نے خام تیل کی برآمدات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھا۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں اور دیگر شدید انتظامی و ترسیلی مشکلات کے باوجود برآمدات مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔
ایرانی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ جنگی حالات نے تیل کی ترسیل اور برآمدی سرگرمیوں کو غیر معمولی دباؤ میں ضرور ڈالا، تاہم ایرانی حکام نے برآمدات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف انتظامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والی بحری ناکابندی اور نقل و حمل کی مشکلات نے ایرانی تیل کی بیرون ملک ترسیل کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ اس کے باوجود ایران اپنی خام تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے دوران ملک کی توانائی تنصیبات کو متعدد خطرات کا سامنا تھا، کیونکہ تیل اور گیس کا بنیادی ڈھانچہ جنگی کارروائیوں کے اثرات سے محفوظ نہیں تھا۔ اس صورتحال میں پیداوار، ذخیرہ، نقل و حمل اور بندرگاہوں کے ذریعے ترسیل کے نظام کو بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
محسن پاک نژاد نے اس بات پر زور دیا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود تیل کی برآمدات میں مکمل تعطل پیدا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگی حالات میں بھی اپنی توانائی کی برآمدی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی اور سمندری راستوں کی سلامتی پر شدید تشویش پیدا ہوئی تھی۔ ایران خطے کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی تیل کی برآمدات میں کسی بڑے تعطل کو عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی وزیر کے دعوے کے مطابق جنگ کے باوجود خام تیل کی برآمدات کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ تہران نے شدید فوجی اور لاجسٹک دباؤ کے باوجود اپنی توانائی کی برآمدی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر انتظامات کیے۔
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اس دعوے میں برآمد کیے گئے تیل کی مجموعی مقدار یا روزانہ برآمدات کے اعداد و شمار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔