کراچی: ملکی معیشت میں استحکام کے حکومتی دعووں کے باوجود پاکستانی عوام کے معاشی حالات اور مستقبل کے حوالے سے اعتماد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تازہ سروے کے مطابق صارفین کے اعتماد کا اشاریہ ایک ہی سہ ماہی کے دوران 24.4 فیصد کم ہو کر 65.3 فیصد رہ گیا ہے۔
ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان کی جانب سے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے لیے صارفین کے اعتماد کے اشاریے کی 20ویں رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں عوام کے معاشی احساسات میں نمایاں مایوسی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ 86.4 فیصد تھا جو رواں سہ ماہی میں کم ہو کر 65.3 فیصد رہ گیا۔ ماہرین کے مطابق اعتماد میں یہ کمی حالیہ برسوں میں ایک ہی دورانیے کے دوران سامنے آنے والی نمایاں ترین کمیوں میں شامل ہے۔
سروے میں عوام کے موجودہ مالی حالات اور مستقبل کے معاشی امکانات دونوں کا جائزہ لیا گیا۔ موجودہ احساسات کا اشاریہ 51.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مستقبل کے معاشی حالات سے متعلق توقعات کا اشاریہ 78.7 فیصد رہا۔ اگرچہ مستقبل کے بارے میں توقعات موجودہ صورتحال کے مقابلے میں بہتر ہیں، تاہم دونوں اشاریے گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں۔
صارفین کے اعتماد کا یہ جائزہ گھریلو مالی حالات، ملکی معاشی صورتحال، بے روزگاری اور بچت سمیت چار بنیادی عوامل کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔
مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ
سروے میں مہنگائی کو عوام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔ مجموعی طور پر 89.3 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے باعث گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا ہے۔
بے روزگاری بھی عوامی تشویش کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی۔ سروے میں شامل 81 فیصد افراد نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بے روزگاری کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
ذاتی مالی حالات کے حوالے سے بھی عوام زیادہ پُرامید نظر نہیں آئے۔ تقریباً 40 فیصد جواب دہندگان نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران ان کے ذاتی مالی حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔
50 سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ مایوس
رپورٹ کے مطابق معاشی مایوسی مختلف عمر کے افراد میں یکساں نہیں رہی۔ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے اعتماد میں سب سے زیادہ 30.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے مقابلے میں 30 سال سے کم عمر افراد کے اعتماد میں کمی نسبتاً کم رہی، تاہم نوجوان بھی گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم پُرامید دکھائی دیے۔
عوام صرف مستقبل نہیں، حال سے بھی پریشان ہیں
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ 65.3 فیصد کا موجودہ اشاریہ پاکستان کو واضح طور پر انتہائی مایوسی کے زمرے میں لے جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ صرف مستقبل کے بارے میں خدشات کا معاملہ نہیں بلکہ موجودہ حالات بھی عوام کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ موجودہ احساسات کا اشاریہ 51.8 فیصد تک گرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ مستقبل کے ساتھ ساتھ آج بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان کے چیف بزنس آفیسر زبیر قریشی نے کہا کہ اعداد و شمار صارفین پر موجود حقیقی معاشی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صارفین کا اعتماد خود بخود بحال نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے موجودہ مالی حالات اور مستقبل کی معاشی توقعات، دونوں محاذوں پر واضح بہتری ضروری ہے۔
سروے میں مجموعی طور پر 1,592 افراد نے حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں میں کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے صارفین کے اعتماد میں یہ نمایاں کمی ایک اہم معاشی اشارہ ہے، جسے آئندہ حکمت عملی اور خطرات کے جائزے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔