تازہ ترین

27 ستمبر کو فیصلہ کن جدوجہد ہوگی، سہیل آفریدی

0

شکارپور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں شکارپور، شہدادکوٹ، لاڑکانہ اور نوشہروفیروز میں اسٹریٹ موومنٹ ریلیوں کی قیادت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اندرون سندھ میں ریلیوں کے دوران عوام کی بھرپور شرکت نے ثابت کردیا ہے کہ سندھ کے عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اندرون سندھ اسٹریٹ موومنٹ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ کئی دہائیوں سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ اندرون سندھ میں صرف ایک سیاسی جماعت کا اثر و رسوخ ہے، تاہم آج سندھ کے عوام نے اپنی سیاسی وابستگی اور فیصلہ خود دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ان کے بقول عوام نے عمران خان کے ساتھ اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کردیا ہے اور اندرون سندھ کا جوش و جذبہ ۲۷ ستمبر کی سیاسی جدوجہد کے لیے اہم طاقت ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ شکارپور سے اٹھنے والی عوامی آواز پورے سندھ اور پاکستان تک پہنچنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۲۷ ستمبر کو سندھ سمیت ملک بھر کے عوام اپنے سیاسی اور آئینی حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے، جبکہ اندرون سندھ میں نظر آنے والا موجودہ جوش اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ اس روز عوام ایک فیصلہ کن سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئیں گے۔

سہیل آفریدی نے عمران خان کی گرفتاری، ان کی اہلیہ کی قید اور ان کی بہنوں سمیت تحریک انصاف کے کارکنوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں کو مبینہ طور پر درپیش کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو دباؤ میں لانے اور عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور وہ حکمرانوں یا طاقتور طبقات کے بجائے پاکستان کے عوام کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد ان کی ذات یا اقتدار کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی آزادی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ہے۔ ان کے بقول اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترامیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ترامیم نے ریاستی اداروں، خصوصاً عدلیہ کو مفلوج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے عمران خان سے ملاقات اور اہل خانہ و ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کی اجازت کے باوجود ان کے بقول حکمرانوں نے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکمران آئین، قانون اور عدالتوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق جب عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو اور قانون صرف کمزور طبقے تک محدود ہوجائے تو عوام کے پاس اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چند خاندانوں، سرداروں، وڈیروں یا اشرافیہ کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کا ملک ہے اور قومی وسائل پر بھی عوام کا حق ہے۔ ان کا الزام تھا کہ بدعنوان حکمران عوام کے وسائل کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ عام شہری بنیادی حقوق اور سہولتوں کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے موروثی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی خاندان نسل در نسل اقتدار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور عام آدمی کو آگے آنے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے دروازے عام آدمی کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور عمران خان نے انہیں وزیراعلیٰ بنایا، اس لیے پاکستان میں کسی بھی عام شہری کے لیے اعلیٰ سیاسی منصب تک پہنچنے کا راستہ موجود ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے عام آدمی کو یہ یقین دلایا کہ اقتدار چند خاندانوں کی میراث نہیں۔ ان کے مطابق عوام کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانا ضروری ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اب خوف کی سیاست نہیں چلے گی اور دھمکیوں یا دباؤ کے باوجود وہ اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اندرون سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ ۲۷ ستمبر تک موجودہ سیاسی جوش و جذبہ برقرار رکھا جائے اور اسے ایک وسیع عوامی سیاسی تحریک میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ۲۷ ستمبر کو پاکستان کے عوام اپنے سیاسی حقوق، قومی وسائل، مستقبل اور حقیقی آزادی کے لیے فیصلہ کن انداز میں میدان میں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ سمیت پورے پاکستان کے عوام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ملک کسی خاندان، سردار، وڈیرے یا حکمران کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کا ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.