پاکستان میں 6.5 ارب ڈالر کے 38 نجی شراکتی منصوبے زیرِ غور
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی ضروریات صرف حکومتی وسائل سے پوری نہیں کی جا سکتیں، اس لیے نجی سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور نجکاری ملک کی مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیر اہتمام ’’نجی سرمایہ متحرک کرنا: پی پی پی اور نجکاری پر قومی تزویراتی مکالمہ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ پاکستان کو عالمی معیشت میں مؤثر مقام برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، بہتر نظم و نسق، ہنرمند افرادی قوت اور جدت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی موجودہ تقریباً 23 کروڑ سے بڑھ کر 2050 تک 39 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی شہری ڈھانچے کی ضروریات میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
محمد علی کے مطابق آنے والے برسوں میں ملک کو مزید ہسپتال، اسکول، توانائی اور پانی کے منصوبے، ریلوے، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی، تاہم حکومت اکیلے اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بچت کی شرح تقریباً 14 فیصد ہے، جو ویتنام کے 32 فیصد اور چین کے 40 فیصد کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ ایسی صورتحال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبے کے سرمائے کو متحرک کرنا ناگزیر ہے۔
نجکاری کیوں ضروری ہے؟
مشیر نجکاری نے کہا کہ نجکاری صرف مالی وسائل حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انتظامی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ ایسی کمپنیوں کو مسلسل عوامی پیسہ فراہم نہیں کیا جانا چاہیے جو منافع کمانے کے لیے قائم کی گئی ہوں، بلکہ ان کا انتظام نجی شعبے کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق نجی شعبہ سرمایہ اور بہتر انتظامی صلاحیتیں لانے کے ساتھ ساتھ جدید طریقہ کار متعارف کرا سکتا ہے، جس سے آمدنی کے ضیاع میں کمی، انتظامی کارکردگی میں بہتری اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔
محمد علی نے بتایا کہ 1990 سے اب تک پاکستان میں تقریباً 36 ارب ڈالر مالیت کے 154 پبلک پرائیویٹ شراکتی منصوبے مالی مراحل کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں، جو ملک میں ایسے منصوبوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے جائزے کے مطابق پاکستان کا پبلک پرائیویٹ شراکتی منصوبوں کا مجموعی ذخیرہ ترقی پذیر دنیا میں پہلے 14 ممالک اور ملکی معیشت کے حجم کے مقابلے میں پہلے 10 ممالک میں شامل ہے۔
6.5 ارب ڈالر کے 38 منصوبے زیرِ پائپ لائن
مشیر نجکاری نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت تقریباً 6.5 ارب ڈالر مالیت کے 38 منصوبے زیرِ پائپ لائن ہیں، جن کا تعلق سڑکوں، ریلوے، ہسپتالوں، مہمان نوازی، ہوا بازی اور صنعتی علاقوں سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تعداد اور حجم میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی بڑھتی ہوئی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
27 نجکاری معاملات پر کام جاری
محمد علی نے بتایا کہ حکومت اس وقت 27 نجکاری معاملات پر کام کر رہی ہے، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، ہوائی اڈے، انشورنس کمپنیاں اور بینک شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کو حکومت کی پیچیدہ نجکاری معاملات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت اور عزم کی مثال قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 600 ارب روپے کا ورثے میں ملا قرض ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 45 کروڑ ڈالر کی آمدنی کا اہم حصہ ادارے کی بحالی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
بجلی کے شعبے میں بھی نجکاری اور اصلاحات
پاور سیکٹر کے حوالے سے مشیر نجکاری نے بتایا کہ حکومت بجلی کی تقسیم کے نو اثاثوں کی فروخت پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مقصد صرف اثاثے فروخت کرنا نہیں بلکہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات، مسابقتی ترسیلی و فراہمی کے نظام کا قیام اور پورے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔
محمد علی نے پبلک پرائیویٹ شراکتی منصوبوں کے شعبوں اور معاملات میں مزید تنوع لانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان قانونی و دیگر دستاویزات کو معیاری بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ منصوبوں کی تکمیل کا عمل تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانا اور وزارتوں و سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔
مشیر نجکاری نے کہا کہ تمام سرکاری اداروں اور وزارتوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر ملک کی بڑھتی ہوئی ترقیاتی ضروریات پوری کی جا سکیں۔