تاجک افغان سرحد پر مسلح جھڑپ، 2 افغان شہری ہلاک
تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی، جہاں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے دو افغان شہریوں کی سرحدی محافظوں سے مسلح جھڑپ کے نتیجے میں دونوں ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور 17 کلو گرام چرس برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاجک حکام کے مطابق واقعہ ختلان کے جیحون ضلع کے علاقے فتح آباد میں پیش آیا، جہاں افغانستان سے داخل ہونے والے دو افراد کا سرحدی محافظوں سے مسلح تصادم ہوا۔ دونوں افراد کا تعلق افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے گاؤں برزنگی سے بتایا گیا ہے۔
تاجک حکام کے مطابق سرحدی اہلکاروں نے دونوں افغان شہریوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، تاہم انہوں نے جواب میں فائرنگ کردی۔ اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں دونوں افراد مارے گئے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک ماکاروف پستول اور دو بیگ برآمد ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 17 کلو گرام چرس موجود تھی۔ حکام نے واقعے کی درست تاریخ ظاہر نہیں کی۔
واقعے کے حوالے سے منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی کا انتظام، اسمگلنگ اور غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر حالیہ مہینوں میں اس نوعیت کی متعدد جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ تاجک حکام کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران افغان سرحد پر سات مسلح جھڑپیں ہوئیں، جن میں 17 افغان شہری ہلاک ہوئے۔
اسی عرصے کے دوران تاجک حکام نے افغان سرحد کے قریب مختلف کارروائیوں میں ایک ہزار 513 کلو گرام منشیات بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
اپریل میں بھی تاجک حکام کے مطابق ختلان کے ضلع فرخور میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو افغان شہری ہلاک ہوئے تھے اور ان کے قبضے سے 25 کلو گرام منشیات برآمد کی گئی تھی۔