تازہ ترین

ملک ریاض کا اہم شخصیات سے بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کی نیلامی رکوانے اور مداخلت کا مطالبہ

0

بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین نے کمپنی کے اثاثوں کی ضبطی، سیل کیے جانے اور مبینہ طور پر کم قیمتوں پر نیلامی کے معاملے پر پاکستان کی اہم شخصیات سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ صرف ایک کاروباری ادارے تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اپنی اپیل میں ملک ریاض نے دعویٰ کیا کہ بحریہ ٹاؤن کی متعدد جائیدادیں اور اثاثے ایسے وقت میں منسلک، سیل اور فروخت کیے جا رہے ہیں جب ان سے متعلق کئی مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ انہوں نے اثاثوں کی قیمتوں کے تعین اور نیلامی کے عمل میں شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔

اپیل کے مطابق تقریباً 238.6 ارب روپے مالیت کے اثاثے مبینہ طور پر نیلام کیے جا چکے ہیں، قبضے میں لیے گئے ہیں یا انہیں فروخت کے لیے کارروائی میں شامل کیا گیا ہے۔ ملک ریاض نے ان اقدامات کے دوران اثاثوں کی قدر کے تعین اور طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام تعطل کا شکار ہیں، جن میں انفراسٹرکچر، یوٹیلیٹیز اور رہائشی منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے بڑی تعداد میں الاٹیز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز وابستہ ہیں۔

ملک ریاض کی اپیل میں ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف مبینہ دھمکیوں اور نگرانی کے الزامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے معاملے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جس میں پہلے منسوخ کی گئی ایف آئی آر کو ہائی کورٹ کی جانب سے بحال کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ملک ریاض نے تنازع کے حل کے لیے ادارہ جاتی مذاکرات اور بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک قابلِ عمل تصفیہ ریاست، سرمایہ کاروں، الاٹیز، قرض خواہوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون سے استثنیٰ نہیں بلکہ تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے مسئلے کے حل کے خواہاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.