پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشقیں قراقرم 2026 شروع
پاکستان اور چین نے دفاعی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ قراقرم 2026 کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں شمال مغربی چین کے خودمختار علاقے سنکیانگ میں بلند پہاڑی علاقوں میں جاری ہیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی اور مشترکہ فوجی کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
چینی مسلح افواج کے سرکاری ذرائع کے مطابق مشقوں کی افتتاحی تقریب سنکیانگ کے شہر کورلا میں واقع ایک فوجی تربیتی مرکز میں منعقد ہوئی۔ تربیتی سرگرمیوں میں دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کارروائیوں کی مشق کی جا رہی ہے۔
مشقوں کے دوران دونوں ممالک کے فوجی اہلکار انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں اپنے تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوجی اہلکاروں کو چین کے مختلف ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے۔
قراقرم 2026 کی سرگرمیوں میں ڈرون چلانے، نقل و حرکت کے دوران اہداف کی نشاندہی، فائرنگ، طویل فاصلے سے نشانہ لگانے اور مشترکہ کمانڈ سے متعلق مشقیں شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے فوجی اہلکار ان سرگرمیوں میں عملی طور پر حصہ لے رہے ہیں تاکہ مختلف حالات میں مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
ان مشقوں کا بنیادی مقصد دونوں افواج کے درمیان رابطوں، مشترکہ منصوبہ بندی اور عملی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ذریعے بلند پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے مشترکہ صلاحیتوں میں بہتری لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان پہلے سے دفاعی تعاون موجود ہے، جبکہ قراقرم 2026 دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور مشترکہ تربیت کے ذریعے عملی مہارتیں بہتر بنانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔